رسائی کے لنکس

طلاق ثلاثہ کے مسئلے پر بھارتی سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ تشکیل


بھارتی سپریم کورٹ ۔ فائل فوٹو

گذشتہ سال دسمبر میں الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک ساتھ تین بار طلاق بول کر اپنی بیوی کو چھوڑ دینے کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔

سہیل انجم

مسلم معاشرے میں طلاق ثلاثہ، نکاحِ حلالہ اور بیویوں کی تعداد سے متعلق درخواستوں پر سماعت اور فیصلے کے لیے سپریم کورٹ کا ایک پانچ رکنی آئینی بینچ تشکیل دیا جائے گا۔ یہ رولنگ چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس جے ایس کھیہر کی سربراہی میں ایک تین رکنی بینچ نے دی ہے۔

عدالت عظمیٰ30 مارچ کو تین طلاق، نکاح حلاله اور تعدد ازدواج سے متعلق قانونی نکات طے کرے گی۔

عدالت نے کہا ہے کہ طلاق ثلاثلہ ایک انتہائی اہم معاملہ ہے جسے ٹالا نہیں جاسکتا۔ مرکز کے ذریعے قانونی نکات طے کیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت کا کہنا تھا کہ یہ تمام نکات آئینی ہیں اور ان کی سماعت ایک بڑے بینچ میں کیے جانے کی ضرورت ہے۔ بینچ نے تمام متعلقہ فریقوں سے کہا کہ وہ اپنا موقف تحریری شکل میں، جو کہ پندرہ صفحات سے زائد نہ ہوں، اگلی سماعت پر پیش کریں۔

بینچ نے کہا کہ وہ اس سوال پر غور نہیں کرے گا کہ آیا مسلم پرسنل لا کے تحت دی جانے والی طلاقوں کی نگرانی عدالت کو کرنی چاہیے۔ کیونکہ اس کا تعلق قانون سازی سے ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ وہ صرف آئینی وقانونی امور پر ہی اپنا فیصلہ سنائے گی۔

خیال رہے کہ مرکزی حکومت نےمسلم معاشرے میں رائج تین طلاق، نکاح حلاله اور تعدد ازدواج کی مخالفت کی ہے۔ اس نے طلاق ثلاثہ کو خواتین کے حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے یکساں سول قانون نافذ کرنے پر زور دیا ہے۔

گذشتہ سال دسمبر میں الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک ساتھ تین بار طلاق بول کر اپنی بیوی کو چھوڑ دینے کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، جمعية علمائے ہند اور جماعت اسلامی ہند اور دیگر مسلم تنظیموں نے طلاق ثلاثہ کی حمایت کی ہے۔

مسلم پرسنل لا بورڈ نے عدالت میں اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک خاتون کو ہلاک کر دینے سے بہتر ہے کہ اسے طلاق دے دی جائے۔

بورڈ کے ایک رکن کمال فاروقي نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پہلے بھی عدالت میں اپنا موقف رکھا ہے اور آئندہ بھی رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت یا کسی کو بھی ہمارےشرعی امور میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے۔

XS
SM
MD
LG