رسائی کے لنکس

لائن آف کنٹرول پر فائرنگ، 11 پاکستانی شہری اور تین فوجی ہلاک

  • روشن مغل

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

پاکستان کا کہنا ہے کہ کشمیر میں ’لائن آف کنٹرول‘ پر بھارتی فورسز کی فائرنگ سے کم از کم 11 شہری اور تین فوجی ہلاک ہو گئے۔

پاکستانی فوج کے مطابق کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب وادی نیلم کے قریب ایک مسافر بس بھارتی فورسز کی فائرنگ کی زد میں آئی، جس میں شہری ہلاکتیں ہوئیں۔

فائرنگ کے اس واقعہ میں متعدد شہری زخمی بھی ہوئے جس سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بھارتی فورسز کی طرف سے ایک ایمبولینس پر بھی فائرنگ کی۔

جب کہ پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اُس کی جوابی کارروائی میں سات بھارتی فوجی مارے گئے ہیں، بھارت کی طرف سے تاحال اس بارے میں کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

وادی نیلم سے پاکستانی کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر شاہ غلام قادرنے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو تفصیلات بتائے ہو کہا کہ بھارتی فوج نے ’’شہری آبادی پر گولہ باری کی اور مسافر بس کوہدف بنایا۔‘‘

مسافر بس پر گولہ باری کے بعد سیاحت کے لیے مشہور وادی نیلم کو پاکستانی کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سے ملانے والی واحد سٹرک پر گاڑیوں کی آمدورفت بند ہو گئی ہے۔

وادی نیلم کے لوات کے رہائشی محمد شہزاد نے ’وی او اے‘ کو بتایا کہ بھارتی فوج کی طرف سے زخمیوں کو لانے والی ایک ایمبولینس کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

پاکستانی کشمیر کے حکام کے مطابق بدھ کے روز ضلع کوٹلی کے نکیال سیکٹرمیں بھارتی فوج کی گولہ باری سے ایک شہری ہلاک اور ساتزخمی ہو ئے۔

پاکستانی کشمیر کے ڈیسزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ناظم اعلی ظہیر قریشی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ کنٹرول لائن پر حالیہ کشیدگی کے دوران ہونے والی بھارتی گولہ باری سے اب تک پاکستانی کشمیرمیںاڑتیس شہری ہلاک اور ایک سو بارہ زخمی ہو چکے ہیں ۔

منگل کے روز بھارتی فوج کی طرف سے پاکستانی فوج پر وادی نیلم سے متصل بھارتی کشمیر کے مچل سیکٹر میں تین بھارتی فوجیوں کو ہلاک کر نے کے بعد ان کی لاشیں مسخ کرنے کا الزام لگا یا گیا تھا۔

تاہم پاکستانی فوج کی طرف سے اس کی تردید کی گئی۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ مہینوں میں لائن آف کنٹرول پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور فائرنگ و گولہ باری کے تبادلے میں گزشتہ ہفتے بھی دونوں جانب جانی نقصان ہوا۔

حالیہ کشیدگی میں اضافہ ستمبر میں بھارتی کشمیر میں اوڑی کے علاقے میں ایک فوجی ہیڈ کوارٹر پر عسکریت پسندوں کے حملے میں کم از کم 18 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد ہوا۔

دونوں ملکوں کے درمیان 2003ء میں فائر بندی کا معاہدہ طے پایا تھا، پاکستان اور بھارت ایک دوسرے پر اس معاہدے کی خلاف ورزی میں پہل کا الزام ایک دوسرے پر عائد کرتے رہے ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG