رسائی کے لنکس

پاسپورٹ کے معاہدے کی منسوخی پر بھارت کا نیپال سے احتجاج

  • پرویز حفیظ

پاسپورٹ کے معاہدے کی منسوخی پر بھارت کا نیپال سے احتجاج

پاسپورٹ کے معاہدے کی منسوخی پر بھارت کا نیپال سے احتجاج

بھارت نے اِس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ نیپال کے ذریعے بھارت کو دیے گئے پاسپورٹ بنانے کے معاہدے کوسیاسی رنگ دیا گیا ہے۔

نیپال میں بھارتی سفیر راکیش سود نے منگل کےدِن وزیرِ اعظم مادھیو کمار سے مل کر بھارت کو دیے گئے نیپالی پاسپورٹ بنانے کے معاہدے کی منسوخی پر اپنی حکومت کی ناراضگی کا اظہار کیا۔

نیپال میں بھارتی سفارت خانے نے منگل کے دِن ایک بیان بھی جاری کیا جِس میں دعویٰ کیا گیا کہ بھارت نے اپنی ایک سرکاری ایجنسی کے ذریعے جدید طرز کے 40لاکھ نیپالی پاسپورٹ بنانے کی تجویز خیر سگالی کے جذبے کی خاطر منظور کی تھی۔

بیان میں یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ بھارت نے بلا معاوضہ پاسپورٹ کے سلسلے میں تکنیکی تعاون فراہم کرنے، کاٹھمنڈو کے پاسپورٹ آفس میں نئی مشین لگانے اور نیپالی افسروں کو تربیت دینے کی بھی پیش کش کی تھی۔

بھارتی سفارت خانے کے بیان میں اِس بات پر بھی سخت اعتراض جتایا گیا ہے کہ بھارتی سفیر راکیش سود کے ذریعے نیپال کے وزیر خارجہ کو ارسال کردہ ذاتی خط کی عوامی تشہیر کی گئی۔

دراصل اتوار کے دِن حزبِ اختلاف ماؤنواز جماعت نے نیپال کی پارلیمنٹ میں اُس خط کو پیش کردیا تھا۔ خط میں بھارتی سفیر نے نیپالی حکومت سے یہ درخواست کی تھی کہ پاسپورٹ بنانے کا ٹھیکا بھارت کو ہی دیا جائے۔

اُس خط کے منظرِ عام پر آنے کے بعد، ماؤ نوازوں نے بھارت کو نیپالی پاسپورٹ بنانے کا ٹھیکا دینے کے خلاف محاذ آرائی شروع کردی تھی جِس کے نتیجے میں نیپالی حکومت نے یہ معاہدہ منسوخ کردیا تھا۔

XS
SM
MD
LG