رسائی کے لنکس

نکسل باڑی مسئلے کا جائزہ لینے کے لیے بھارتی وزیر اعظم کی جانب سے اعلیٰ سطحی اجلاس طلب

  • سہیل انجم

مرکزی وزیرِ داخلہ پی چدم برم

مرکزی وزیرِ داخلہ پی چدم برم

چھتیس گڑھ کے دنتیواڑا میں نکسلیوں کے ذریعے ایک بس کو دھماکے سے اُڑا کر کم از کم 36افراد کی ہلاکت کے ایک روز بعد، من موہن سنگھ نے حکومت کی نکسل پالیسی کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کر لیا ہے جِس میں چھتیس گڑھ کے وزیرِ اعلیٰ سمیت متاثرہ ریاستوں کے دیگر وزرائے اعلیٰ بھی شرکت کر رہے ہیں۔

اُدھر مرکزی وزیرِ داخلہ پی چدم برم نے نکسلائیٹس کے سامنے مذاکرات کی تازہ پیش کش رکھی ہے۔

اُنھوں نے ایک نجی ٹیلی ویژن کو انٹرویو میں کہا ہے کہ اگر وہ 72گھنٹے تک تشدد روک دیں تو حکومت متاثرہ ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے تبادلہٴ خیال کرکے مذاکرات کی تاریخ طے کر لے گی۔

دریں اثنا، اِس معاملے پر سیاسی سرگرمیاں بھی زوروں پر ہیں۔ جہاں بھارتیا جنتا پارٹی نے اِس بارے میں وزیرِ اعظم سے وضاحت طلب کی ہے وہیں کانگریس کے ایک سینئر لیڈر تشدد کی تازہ وارداتوں کے لیے چھتیس گڑھ حکومت کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ ساتھ ہی دہلی میں فوج کے کمانڈروں کی ایک چار روزہ کانفرنس شروع ہوگئی ہے جِس میں نکسلی انتہا پسندی پر تبادلہٴ خیال کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق حکومت نکسلیوں سے نمٹنے کے لیے فوج کے استعمال کے امکان پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔

اُدھر ماؤ نوازوں نے سکیورٹی آپریشن کے خلاف پانچ ریاستوں بہار، جھاڑکھنڈ، اُڑیسا، چھتیس گڑھ اور مغربی بنگال میں دو روزہ ہڑتال کی کال دی گئی ہے جِس کے باعث بہار اور اُڑیسا میں متعدد ریل گاڑیاں منسوخ کر دی گئی ہیں اور چھتیس گڑھ میں ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG