رسائی کے لنکس

بھارت: نکسلی انتہا پسندوں نے یرغمال پولیس حوالدارکو ہلاک کردیا

  • سہیل انجم

ہلاک شدہ پولیس افسر کی لاش

ہلاک شدہ پولیس افسر کی لاش

نکلسی انتہا پسندوں کی طرف سے اغوا کیے گئے بہار پولیس کے چار جوانوں میں سے ایک کی گولیوں سے چھلنی لاش لکھی سرائے سے برآمد کی گئی ہے۔ ہلاک کیے گئے جوان کا نام لوکس ٹے ٹے ہے جو بہار میں ملٹری پولیس میں حوالدار تھا۔

بتایا گیا ہے کہ لاش کے پاس سے ایک پرچہ ملا ہے جِس میں دھمکی دی گئی ہے کہ حکومت جیل میں اُن کے آٹھ لوگوں کو رہا کردے ورنہ باقی تین جوانوں کو بھی مار دیا جائے گا۔ اُن کے مطالبے کی ڈیڈ لائن جمعے کی صبح ختم ہوگئی ہے۔

لکھی سرائے کے ایس پی، آر کے مِشرا نے لوکس ٹے ٹے کی لاش پائے جانے کی تصدیق کی ہے۔اِس سے قبل ایسی خبریں آئی تھیں کہ نکسلیوں نے ایک دوسرے سب انسپکٹر کو بھی ہلاک کردیا ہے۔

وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار نے اِس سلسلے میں ہفتے کے روز پٹنہ میں ایک کُل جماعتی میٹنگ بلائی ہے۔ اُنھوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر نکسلی باقی یرغمالیوں کو رہا کردیتے ہیں تو حکومت اُن کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے۔

دوسری طرف، سکیورٹی فورسز نے یرغمالوں کا پتا لگانے کے لیے تلاشی مہم تیز کردی ہے ، جب کہ مرکز کی جانب سے ریاستی حکومت کو مزید پولیس فورس دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

اتوار کے روز ایک مقابلے کے بعد نکسلیوں نے مذکورہ چاروں جوانوں کا اغوا کیا تھا۔

اِس تحریک کا آغاز 1967ء میں مغربی بنگال کے نکسل باڑی نام کے گاوٴں میں ہوا تھا، اِس لیے اِس کے علم برداروں کو نکسلی یا نکسلائٹ کہا جانے لگا۔ اِس تحریک کو کانگریس حکومت نے طاقت کے ذریعہ چند سالوں میں ہی کچل دیا تھا تاہم 1980ء کے اوائل میں تحریک نے ایک بار پھر سر اُٹھایا۔ اِس بار، نکسلائٹ کے ساتھ ساتھ اُن لوگوں کو ماوٴسٹ بھی کہا گیا، کیوں کہ اِس تحریک سے جڑے اراکین نے چین کے ماوٴ زی تنگ کے فلسفے کو اپنایا تھا۔ یہ تحریک پہلے سے زیادہ فعال، متحرک اور منظم تھی، اِسی لیے دیکھتے ہی دیکھتے کئی صوبوں میں پھیل گئی۔

XS
SM
MD
LG