رسائی کے لنکس

بھارت: شہری مقاصد کاجوہری توانائی سے متعلق بل مؤخر


بھارت: شہری مقاصد کاجوہری توانائی سے متعلق بل مؤخر

بھارت: شہری مقاصد کاجوہری توانائی سے متعلق بل مؤخر

بھارتی حکومت نے جوہری توانائی کی مارکیٹ میں امریکی کمپنیوں کی شمولیت سے متعلق اہم سمجھے جانے والے ایک بل کو اسمبلی میں پیش کرنے کا عمل مؤخر کردیا ہے ۔ اس بل میں بھارت میں جوہری بجلی گھر قائم کرنے والی کمپنیوں کی ذمہ داریاں محدود کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتیں اس بل کی بھرپور مخالفت کررہی ہیں۔

شہری مقاصد سے متعلق جوہری ذمہ داریوں کے اس بل کو پیر کے روز پارلیمنٹ میں پیش کیا جانا تھا لیکن اسپیکر نے اعلان کیا کہ حکومت نے اپنا ارادہ تبدیل کرلیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے حکومت کی درخواست قبول کرلی ہے اور اب یہ بل پیش نہیں کیاجارہا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بل کو اس لیے مؤخر کیا گیا ہے کہ ایسے میں کہ جب حزب اختلاف کی بڑی جماعتیں اس کی مخالفت کا عزم ظاہر کررہی ہیں، ممکن ہے کہ بل کی منظوری سہل نہ ہو۔

اس بل کے تحت کسی جوہری بجلی گھر میں کسی حادثے کی صورت میں غیر ملکی کمپنیوں پر زیادہ سے زیادہ تقریباً 45 کروڑ ڈالر تک ادائیگی کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔اس بل میں ان نقصانات کے لیے سپلائر کی بجائے آپریٹر پر ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس اہم بل کے بغیر غیر ملکی کمپنیاں بھارت کے شہری مقاصد سے متعلق جوہری شعبے میں سرمایہ کاری کرنے سے ہچکچائیں گی۔

بھارت اور امریکہ کے درمیان 2008ء کے ایک تاریخی معاہدے کے تحت نئی دہلی پر جوہری تجربات کرنے کی بنا پر30 سال سے عائد پابندیوں کا خاتمہ ہوا تھااور اس کے نتیجے میں بھارت کے لیے شہری مقاصد کی جوہری ٹیکنالوجی حاصل کرنے کا راستہ کھل گیا تھا۔ اس وقت سے امریکی ، روسی اور فرانسیسی کمپنیاں ، توانائی کی شدید ضرورت کے حامل اس ملک میں جوہری بجلی گھر قائم کرنے کے لیے کوششیں کررہی ہیں۔

تاہم جب تک مذکورہ بل منظور نہیں ہوجاتا ، امریکی کمپنیوں کے لیے مقابلہ کرنا انتہائی دشوار ہے۔ ایسا اس لیے ہے کیونکہ امریکی کمپنیاں زیادہ تر نجی ملکیت کی ہیں ، جب کہ فرانسیسی اور روسی کمپنیاں کلی یا جزوی طورپر سرکاری ملکیت میں ہیں اور کسی حادثے کی صورت میں ذمہ داریوں کی ضمانت حکومتیں دیتی ہے۔

تاہم بھارت میں ناقدین اس بل کی مخالفت کررہے ہیں ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک ممتاز راہنما روی شنکر پرساد کا کہنا ہے کہ تلافی سے متعلق 45 کروڑ ڈالر کی رقم کی زیادہ سے زیادہ حدبہت کم ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک بھارتی کی زندگی کی قیمت بہت کم ہے۔

یہ مسئلہ بھارت جیسے ملک میں اس لیے خصوصی طورپر اہمیت رکھتا ہے کہ وہاں 1984ء میں دنیا کا ایک بدترین صنعتی سانحہ پیش آیاتھا، جب بھوپال کی ایک یونین کاربائیڈ فیکٹری میں زہریلی گیس کے اخراج کے باعث لگ بھگ آٹھ ہزارلوگ ہلاک ہوگئے تھے۔ اس وقت بھارتی حکومت پر متاثرہ افراد کے لیے لگ بھگ 47 کروڑ ڈالر تلافی کے طورپر قبول کرنے پر سخت نکتہ چینی کی گئی تھی۔

حزب اختلاف کی جماعتیں اس بات پر بھی برہم ہیں کہ تلافی کی ذمہ داری آپریٹر پر عائد کی جارہی ہے جو امکانی طورپر بھارت کی سرکاری ملکیت کی جوہری کارپوریشن ہوگی نہ کہ جوہری بجلی گھر بنانے والی غیر ملکی کمپنیاں۔

وزیر اعظم کے دفتر کے ایک منسٹر پرتھوی راج چون اس بل کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس بل کا مسودہ بین الاقوامی اقدار کو ملحوظ رکھتے ہوئے تیار کیا گیا تھا۔وہ کہتے ہیں کہ اب جب کہ ہمیں شہری مقاصد کی جوہری تجارت میں شرکت کی اجازت دے دی گئی ہے تو ہم صرف بین الاقوامی نظام کا ایک حصہ بننا چاہتے ہیں۔

حکومت چاہتی ہے کہ یہ بل اس سال کے آخر میں صدر اوباما کے بھارت کے ایک ممکنہ دورے سے قبل منظور ہوجائے۔

XS
SM
MD
LG