رسائی کے لنکس

جوہری دهشت گردی کی روک تھام پر بھارت میں کانفرنس


red-fort-delhi

بھارتی سیکرٹری خارجہ کا کہنا ہے کہ دنیا جوہری طاقت سے ہونے والی تباہی کی گواہ ہے اور ہمیں امید کرنی چاہیے کہ ایسے واقعات دوبارہ کبھی نہ ہوں۔

سہیل انجم

بھارت کے سیکرٹری خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ جوہری طاقت کے منفی نتائج کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور جوہری دهشت گردی ایک بین الاقوامی خطرہ ہے۔

وہ جوہری دهشت گردی کے مقابلے کے لیے گلوبل انی شیٹیو کے نفاذ اور جائزہ گروپ کے اجلاس میں افتتاحي تقریر کر رہے تھے۔

نئی دہلی میں منعقد ہونے والے اس تین روزہ اجلاس میں انہوں نے کہا کہ جوہری سلامتی ایک مستقل تشویش بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا جوہری طاقت سے ہونے والی تباہی کی گواہ ہے اور ہمیں امید کرنی چاہیے کہ ایسے واقعات دوبارہ کبھی نہ ہوں۔

سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ جوہری دهشت گردی دنیا کی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ اگر جوہری ٹیکنالوجی کے حصول سے مملکت کے رویے میں تبدیلی آتی ہے تو پھر یہ کہا جا سکتا ہے کہ غیر ریاستی کرداروں پر بھی اس کا اثر پڑے گا۔

انہوں نے کہا جوہری سلامتی کی تشویش اس لیے بھی برقرار رہے گی کہ دهشت گرد گروپوں اور نان اسٹیٹ ایکٹرز کی جڑیں کافی گہری ہیں اور وہ دهشت پھیلانے کے لیے مختلف راستے اختیار کرتے ہیں۔ دهشت گردی سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کو ایک جامع پالیسی وضع کرکے اسے اعلیٰ ترین ترجيح دینی چاہیے۔

جے شنکر نے اس امید کا اظہار کیا کہ بھارت نے اس سلسلے میں 1996 میں جو جامع تجویز پیش کی تھی اسے جلد ہی اختیار کیا جائے گا۔

سیکرٹری خارجہ نے یہ بھی کہا کہ مجموعی ترقی اور ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنجوں کے مقابلے میں جوہری توانائی اہم رول ادا کرے گی۔

اس تین روزہ اجلاس میں 150 شریک ملکوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے مندوبین شرکت کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG