رسائی کے لنکس

بھارت میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اور سمارٹ فونز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور بڑی تعداد میں لوگ فحش ویب سائٹس استعمال کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہونے کے بعد بھارت نے سینکڑوں فحش ویب سائٹس کو بلاک کرنے کا حکم جزوی طور پر واپس لے لیا ہے۔

حکومت نے انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ بچوں میں فحاشی کو فروغ دینے والی ویب سائٹس کو بند کر دیں۔

حکومت نے گزشتہ ہفتے انٹرنیٹ آپریٹرز کو بالغوں کی 857 ویب سائٹس بند کرنے کا حکم اخلاقیات اور شرافت کی بنیادوں پر دیا تھا، جس کے خلاف ملک میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر غصے کا اظہار کیا گیا اور ملک میں سنسرشپ پر بحث چھڑ گئی۔

بھارت کے محکمہ ٹیلی کام کے ایک ترجمان کے مطابق انٹرنیٹ آپریٹرز بند کی گئی ویب سائٹس کی اکثریت تک رسائی بحال کر دیں گے، مگر ان ویب سائٹس پر پابندی برقرار رہے گی جو بچوں پر مبنی فحش مواد کو فروغ دیتی ہیں۔

نظر ثانی شدہ حکم نامے پر انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں نے برہمی کا اظہار کیا ہے، جنہیں یہ کہا گیا ہے کہ وہ دیکھ کر خود فیصلہ کریں کہ کن ویب سائٹس کو بند کرنا چاہیئے۔

بھارت کے ایک اہم ٹیلی کام آپریٹر کے ایک عہدیدار نے کہا کہ ’’یہ سب بہت مبہم ہے۔ ہم کیسے چیک کریں کہ کون سی ویب سائٹ بچوں پر مبی فحش مواد رکھتی ہے؟ کیا اب ہمیں یہ کام بھی کرنا ہو گا؟‘‘

بھارت میں انٹرنیٹ مواد کی سنسرشپ عام ہے مگر 857 ویب سائٹوں کو بند کرنے کا حکم فحاشی کے خلاف پہلا بڑا کریک ڈاؤن تھا۔

2011ء میں بھارت نے سماجی رابطہ ویب سائٹوں کی کمپنیوں پر زور دیا تھا کہ وہ ان پر موجود مواد کا جائزہ لیں اور قابل اعتراض مواد کو ہٹائیں۔ 2012ء میں حکومت کو اس وقت تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب اس نے افواہیں پھیلانے کے الزام میں درجنوں ٹویٹر اکاؤنٹس بند کرنے کا حکم دیا تھا۔

بھارت کی سپریم کورٹ نے بھی فحش مواد پر بڑے پیمانے پر پابندی عائد کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے یہ بیان ایک وکیل کی 2013ء میں دی گئی درخواست پر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ ’’عورتوں، لڑکیوں اور بچوں کے خلاف ہونے والے اکثر جرائم فحش مواد کی وجہ سے ہوتے ہیں۔‘‘

وکیل کملیش وسوانی نے یہ درخواست دلی میں گینگ ریپ اور قتل کے ایک واقعے کے بعد دی تھی جس کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔

تاہم گزشتہ ماہ سپریم کورٹ نے اس بنا پر فحش مواد رکھنے والی ویب سائٹس کو بند کرنے کا عبوری حکم نامہ جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ یہ شہریوں کی ذاتی آزادی کی خلاف ورزی کے مترادف ہو گا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ’’سپریم کورٹ اس طرح کا عبوری حکم نامہ نہیں دے سکتی۔ کل کوئی اور عدالت آ کر یہ کہہ سکتا ہے کہ ’دیکھو میں بالغ ہوں۔ آپ مجھے اپنے کمرے کی چار دیواری میں کچھ دیکھنے سے کیسے روک سکتے ہیں؟ یہ آئین کے آرٹیکل 21 کی خلاف ورزی ہے۔‘ ہاں یہ ایک اہم مسئلہ ہے اور اس سلسلے میں کچھ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔‘‘

بھارت میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اور سمارٹ فونز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور بڑی تعداد میں لوگ فحش ویب سائٹس استعمال کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG