رسائی کے لنکس

بھارتی تجارتی وفد کا دورہ پاکستان

  • انجنا پسریچا
  • یاسمین جمیل

بھارتی تجارتی وفد کا دورہ پاکستان

بھارتی تجارتی وفد کا دورہ پاکستان

بھارت کے تجارتی نمائندوں اور پاکستان میں کاروباری راہنماؤں کے درمیان چار روزہ مذاکرات ختم ہوگئے ہیں، ان مذاکرات کا مقصد جنوبی ایشیا کے حریف ملکوں کے درمیان اقتصادی تعلقات مضبوط کرنا تھا۔

وزیر تجارت آنند شرما کی زیر قیادت بھارت کے 120 رکنی وفد میں ملک کی کچھ ممتاز ترین کاروباری شخصیات شامل تھیں ۔ ان میں بھارت کی سب سے بری ٹیلی کام کمپنی بھارتی کے سر براہ راجن متل اور بھارت کی سب سے بڑی ائیر لائن جیٹ ایرئ ویز کے سر براہ نریش گویال شامل تھے ۔

اس اعلیٰ سطح کے وفد نے لاہور، کراچی اور اسلام آباد کے پاکستانی تاجر راہنماؤں او ر حکام سے ملاقاتیں کیں ۔ وزیر تجارت آنند شرما نے دونوں ملکوں کے درمیان موجودہ تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ ان کا کہناتھا کہ ہم نے اپنے لیے جو لائحہ عمل متعین کیا ہے اس کے تحت آزادتجارتی نظام وضع ہونا چاہیے ۔

دونوں فریقوں نے کسٹمز میں تعاون اور شکایات دور کرنے جیسے تین معاہدوں پر دستخط کئے۔ وہ بزنس ویزوں کے حصول کو آسان تر بنا نے پر بھی متفق ہوئے اور ان میں اس امر پر بھی اتفاق رائے ہوا کہ ٹرکوں کی آمد و رفت کو آسان بنانے کے لیے اپریل میں ایک سرحدی گزرگاہ کا ایک گیٹ کھول دیا جائے ۔

پاکستان نے یہ وعدہ بھی کیا کہ ان اشیا ئے صرف کی تعداد میں اضافہ کیا جائےگا جن کی تجارت ہو سکتی ہے ۔

تاجر راہنماؤں کا خیال ہےکہ ان اقدامات سے دونوں ملکوں کو اپنے درمیان دوارب 30 کروڑ ڈالر کی موجودہ تجارت کو تین سال میں بڑھا کر چھ ارب ڈالر تک پہنچانے کا اپنا ہدف پورا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

گزشتہ نومبر میں تجارتی تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش اس وقت شروع ہوئی تھی جب اسلام آباد نے بھارت کے بیشتر سامان کےلیے اپنی منڈیاں کھولنے کا وعدہ کیا ۔

کئی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ تجارت میں اضافے سے جنوب ایشیاکے ان حریف ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری آئے گی اور انہیں اپنے سیاسی اختلافات دور کر نے میں مزید آسانی ہو گی ۔ تاہم دونوں حریف ملکوں کے درمیان پرانی عداوتوں کے باعث اقتصادی تعلقات میں نمایاں اضافے میں وقت لگ سکتا ہے

نئی دہلی میں اس بارے میں کچھ مایوسی پائی جاتی ہے کہ پاکستان نے بھارت کو تجارت کے لیے انتہائی پسندیدہ ملک قرار دینے کے فیصلے پر ابھی تک باقاعدہ طور پر عمل درآمد نہیں کیا ہے ۔

XS
SM
MD
LG