رسائی کے لنکس

پاک بھارت کرکٹ ڈپلومیسی: ایک تاریخی جائزہ

  • عمیر ریاض

فائل

فائل

پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ بھارتی وزیرِاعظم من موہن سنگھ نے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وزیرِاعظم سید یوسف رضا گیلانی کو دونوں ممالک کے درمیان 30 مارچ کو کھیلے جانے والے عالمی کرکٹ کپ کا سیمی فائنل دیکھنے کی دعوت دی ہے۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اس ضمن میں بھارتی وزیرِاعظم کی جانب سے پاکستانی ہم منصب اور صدر کے نام بھجوائے گئے علیحدہ علیحدہ دعوت نامے موصول ہونے کی تصدیق کی ہے تاہم ترجمان کے بقول وزیرِاعظم یا صدر کے دورہ بھارت کے حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

لیکن بھارتی میڈیا میں آنے والی اطلاعات میں امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ وزیرِاعظم سید یوسف رضا گیلانی بھارتی پنجاب کے شہر موہالی میں ہونے والا پاک بھارت میچ دیکھنے کی دعوت قبول کرلیں گے۔

تجزیہ کار بھارتی وزیرِاعظم کی دعوت کو "کرکٹ ڈپلومیسی" کا نیا قدم قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کررہے ہیں کہ اس سے دونوں روایتی حریفوں کے مابین تعلقات میں بہتری کے نئے امکانات اجاگر ہوں گے ۔

پاکستان اور بھارت زندگی کے دیگر تمام شعبوں کے طرح کھیلوں کے مقابلوں اور خصوصاً کرکٹ میں بھی ایک دوسرے کے روایتی حریف سمجھے جاتے ہیں اور ایسے کسی بھی مقابلے میں حریف پر فتح حاصل کرنا ہر دو قوموں کیلئے قومی وقار اور انا کا مسئلہ قرار پاتا ہے۔

تاہم جب کرکٹ کے ان اعصاب شکن معرکوں میں حریفین کے مابین کشیدگی اپنے عروج کو پہنچی ہوئی ہوتی ہے، ماضی میں برِصغیر کے سیاسی رہنماؤں کی جانب سے "کرکٹ ڈپلومیسی" کے ذریعے دونوں قوموں کے درمیان موجود اختلافات کی خلیج پاٹنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔

'کرکٹ ڈپلومیسی' کا آغاز

دونوں ممالک کے درمیان "کرکٹ ڈپلومیسی" کے آغاز کا سہرا پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل ضیاء الحق کے سر جاتاہے جو 1987ء میں ایک ایسے وقت میں پاک بھارت میچ دیکھنے ہندوستان جاپہنچے تھے جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی انتہائی سطح کو چھو رہی تھی۔

بھارت کی جانب سے 1986ء کے اواخر میں "آپریشن براس ٹیکس" کے نام سے صوبہ راجستھان میں فوجی مشقیں کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ نومبر 1986 سے مارچ 1987 تک پانچ ماہ جاری رہنے والی مذکورہ مشقیں جنگِ عظیم دوم کے بعد تاریخ کی سب سے بڑی فوجی نقل و حرکت تھی جس میں پوری ہندوستانی فوج شریک تھی۔

مشقوں کیلئے منتخب علاقہ پاکستانی صوبہ سندھ سے متصل تھا اور مشقوں کے دوران ایک وقت میں علاقے میں موجود بھارتی فوجیوں کی تعداد 4 لاکھ سے بھی تجاوز کرگئی تھی۔

پاکستان کیلئے اپنی سرحد سے عین متصل اتنی بڑی فوجی نقل و حرکت کو نظر انداز کرنا ممکن نہ تھا اور اس کی جانب سے یہ سمجھا گیا کہ بھارت پاکستان پر دباؤ بڑھا کر سندھ پر حملے کی تیاری کر رہا ہے۔

انہی خدشات کے پیشِ نظر اس وقت کی پاکستانی حکومت کی جانب سے جنوری 1987ء کے وسط میں پاکستان کے تمام دستیاب فوجی دستوں کو بھارتی پنجاب سے ملحقہ سرحد پر تعینات کردیا گیا تھا اور دونوں ممالک کے درمیان جنگ چھڑ جانے کے قوی امکانات پیدا ہوگئے تھے۔

ان ا نتہائی کشیدہ حالات میں جب جنگ کے بادل دونوں ملکوں کے سروں پر منڈلا رہے تھے جنرل ضیاء جے پور میں کھیلا جانے والا پاک بھارت ٹیسٹ میچ دیکھنے کے بہانے بن بلائے بھارت جاپہنچے تھے۔ ان کے اس دورے اور بھارتی وزیرِاعظم راجیو گاندھی سے ان کی ملاقات کے سبب دونوں ممالک میں جاری تناؤ کم کرنے اور حالات کو معمول پر لانے میں مدد ملی۔صدر ضیاء کے اسی دورے کو برِصغیر میں"کرکٹ ڈپلومیسی" کا آغاز قرار دیا جاتا ہے۔

'کرکٹ ڈپلومیسی' کا استعمال

صدر ضیاء کے بعد بھی کئی مواقع پر دونوں ممالک کے حکمرانوں کی جانب سے تعلقات میں وقتاً فوقتاً در آنے والی کشیدگی اور تناؤ کے خاتمے اور تعلقات کو معمول پر لانے کیلئے کرکٹ کا سہارا لیا جاتا رہا ہے۔

90 کی دہائی کے آخری برسوں میں بھارتی کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان پر روانگی سے قبل اس وقت کے بھارتی وزیرِاعظم اٹل بہاری واجپائی نے کھلاڑیوں کو "صرف میچ ہی نہیں بلکہ دل جیت کر آنے " کی ہدایت کی تھی۔

پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں جب سفارتی کوششوں سے2004ء میں دونوں ممالک باہمی اعتماد سازی کے اقدامات اٹھانے پر متفق ہوئے تو چند ابتدائی اقدامات میں 15 سال سے تعطل کا شکار پاک بھارت کرکٹ ٹیموں کو ایک دوسرے کی سرزمین پر ٹیسٹ کرکٹ کی اجازت دینے کا معاملہ بھی شامل تھا۔ ٹیموں کے تبادلے کے نتیجے کے طور پر دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے شہریوں پر عائد ویزے کی پابندیاں بھی نرم کرنا پڑیں جس کے باعث دونوں طرف کے ہزاروں شائقینِ کرکٹ کو سرحد پار جا کر میچز دیکھنے کا موقع ملا۔

اپریل 2005ء میں پاکستان کے اس وقت کے فوجی صدر جنرل پرویز مشرف بھی اپنے پیش رو کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے نئی دہلی میں ہونے والا پاک بھارت میچ دیکھنے ہندوستان گئے تاہم ان کا یہ دورہ وزیرِاعظم من موہن سنگھ کی دعوت پر ہوا تھا۔ کرکٹ کے بہانے ہونے والے اس دورے کے دوران جنرل مشرف کی بھارتی وزیرِاعظم سے ملاقات کے بعد جاری ہونے والے اعلامیہ میں دونوں قوموں پر زور دیا گیا تھا کہ وہ "مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کوششیں" کریں۔

"اتنا آساں بھی نہیں ان کو منانا، جاناں!"

تاہم دونوں روایتی حریفوں کے درمیان کرکٹ صرف تعلقات کی بحالی ہی میں معاون نہیں رہا بلکہ ماضی میں کئی تنازعات کو بھی جنم دیتا رہا ہے جس سے تعلقات میں کسی حد تک کشیدگی بھی پیداہوئی۔

ماضی میں بھارتی کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کے سلسلے میں کراچی میں ہونے والے ایک میچ کے دوران ایک تماشائی کی جانب سے بھارتی کپتان کو مارنے کی کوشش میں پچ پر چڑھ دوڑنے اور تماشائیوں کی جانب سے بھارتی کھلاڑیوں پر پتھراؤ کا واقعہ بھی پیش آچکا ہے۔

2000ء میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے دورہ بھارت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ایک انتہا پسند بھارتی تنظیم "شیو سینا" کے کارکنوں نے نئی دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ اسٹیڈیم کی پچ کھود ڈالی تھی جہاں دونوں ٹیموں کے مابین میچ ہونا تھا۔ "شیو سینا" اس کے بعد بھی کئی بار پاکستانی کرکٹ ٹیم کے دورہ بھارت کے خلاف احتجاج کرچکی ہے جبکہ تنظیم نے اس بار بھی دھمکی دی ہے کہ پاکستان کو عالمی کرکٹ کپ 2011ء کے سلسلے کا کوئی بھی میچ بھارت میں نہیں کھیلنے دیا جائے گا۔

2008ء کے اواخر میں بھارتی شہر ممبئی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد بھارتی کرکٹ حکام نے پاکستانی کھلاڑیوں کو انڈین پریمیئر لیگ 2009ء میں شریک ہونے سے روک دیا تھا۔ بعد ازاں پاکستانی کھلاڑیوں کو 2010ء میں ہونے والے آئی پی ایل سیزن 3 کیلئے بھی نظر انداز کردیا گیا جس پر پاکستان کے کرکٹ اور عوامی حلقوں میں خاصی برہمی کا اظہار کیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG