رسائی کے لنکس

بین الاقوامی فورم میں پاک بھارت وزرائے خزانہ کی سردمہری


بھارتی وزیر خزانہ ارون جیٹلی۔ فائل فوٹو

دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی گزشتہ ایک سال سے چلی آ رہی ہے جس کے مستقبل قریب میں کمی کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔

پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں کشیدگی جاپان میں ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں بھی نمایاں رہی جہاں دونوں ملکوں کے وزرائے خزانہ شریک تھے لیکن ان کے درمیان سردمہری ہی دیکھنے میں آئی۔

پاکستانی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار اور ان کے بھارتی ہم منصب ارون جیٹلی جاپان کے شہر یوکوہاما میں 'ایشیا کے اقتصادی خدوخال' سے متعلق ایک مباحثے میں شریک تھے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق دونوں عہدیدار اس انداز میں بیٹھے رہے کہ ایک گھنٹے تک جاری رہنے والے مباحثے میں وہ روبرو نہیں ہوئے اور بعدازاں روایتی گروپ فوٹو بنواتے ہی جیٹلی وہاں سے چلے گئے۔ پاکستانی اور بھارتی وزرائے خزانہ میں نہ تو رسمی جملوں کا تبادلہ ہوا اور نہ ہی کوئی گرمجوش مصافحہ۔

پاکستانی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار۔ فائل فوٹو
پاکستانی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار۔ فائل فوٹو

رواں ماہ ہی بھارت نے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستانی فوج نے اس کے ہلاک کیے گئے دو فوجیوں کی لاشوں کو مسخ کیا لیکن پاکستان نے اس الزام کو یکسر مسترد کر دیا تھا۔

دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی گزشتہ ایک سال سے چلی آ رہی ہے جس کے مستقبل قریب میں کمی کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔

اس کشیدگی کی بڑی وجہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی صورتحال ہے جہاں گزشتہ جولائی میں ایک علیحدگی پسند نوجوان کمانڈر برہان وانی کی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد سے بھارت مخالف مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور اس دوران سکیورٹی فورسز کے ساتھ مظاہرین کی جھڑپوں میں درجنوں افراد مارے جا چکے ہیں۔

نئی دہلی کا الزام ہے کہ اسلام آباد کشمیر میں علیحدگی پسندوں کی حمایت اور دہشت گردوں کو معاونت فراہم کر رہا ہے۔ لیکن پاکستان اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ بھارت مبینہ طور پر کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو رہا ہے جب کہ وہ کشمیریوں کی صرف سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG