رسائی کے لنکس

بھارتی ہائی کمشن کو بھرپور سیکیورٹی حاصل ہے: پاکستان


اسلام آباد پولیس کے اہلکار

اسلام آباد پولیس کے اہلکار

اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل پولیس بن امین نے بتایا ہے کہ ان کے خیال میں بھارتی ہائی کمیشن کی حفاظت میں اضافے کی ضرورت نہیں ہے۔

پاکستان میں اعلیٰ پولیس حکام نے کہا ہے کہ انھوں نے بھارت کے ہائی کمیشن کی حفاظت کے لیے ’’بھرپور‘‘ انتظامات کر رکھے ہیں اور ان میں اضافے کی ضرورت نہیں ہے۔

بھارت کے اقتصادی مرکز ممبئی میں دہشت گرد حملوں میں ملوث اجمل قصاب کو ایک روز قبل پھانسی دیے جانے کے بعد بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید نے پاکستانی حکام سے ’’حفظ ما تقدم‘‘ کے طور پر اسلام آباد میں ہائی کمیشن کی حفاظت کے لیے اضافی اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے ذرائع ابلاغ کو بھیجے گئے پیغامات میں اجمل قصاب کو پھانسی پر انتقاماً بھارتی اہداف کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی ’’خواہ وہ کہیں بھی ہوں‘‘۔

بظاہر ان ہی خدشات کے پیش نظر بھارتی وزیر خارجہ نے پاکستان سے اضافی حفاظتی انتظامات کا تقاضا کیا تھا۔

لیکن اسلام آبا کے انسپکٹر جنرل پولیس بن امین نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ وفاقی حکومت کی طرف سے تاحال ایسا کوئی حکم نہیں ملا ہے اورنہ ہی ان کے خیال میں ہائی کمیشن کی حفاظت میں اضافے کی ضرورت ہے۔

’’بھارتی ہائی کمیشن کو پہلے ہی بھرپور سیکیورٹی مہیا کی گئی ہے‘‘۔

26 نومبر 2008ء کو بھارت کے تجارتی مرکز ممبئی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں غیر ملکیوں سمیت 166 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اجمل قصاب واحد زندہ بچ جانے والا حملہ آور تھا جسے گرفتار کر لیا گیا ۔

بھارتی حکام کے بقول وہ پاکستانی شہری تھا جسے دیگر نو شدت پسندوں کے ہمراہ پاکستانی کالعدم تنظیم لشکر طیبہ نے مبینہ طور پر ممبئی حملوں کے لیے بھیجا تھا۔
XS
SM
MD
LG