رسائی کے لنکس

بھارت کو ’انتہائی مراعات یافتہ ملک‘ کا درجہ دیا جائے: میاں ابرار

  • قمرعباس جعفری

فائل فوٹو

فائل فوٹو

یہ مطالبہ کرتے ہوئے، اُنھوں نے کہا کہ جب کہ تجارتی ’فریٹ ریٹ‘ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، ضرورت اِس بات کی ہے کہ علاقائی تجارت کو فروغ دیا جائے جو باہمی طور پر منفعت بخش معاملہ ہے

کراچی ایوانِ تجارت و صنعت کے صدر، میاں ابرارنےکہا ہےکہ ضرورت اِس بات کی ہے کہ پاکستان فوری طور پر بھارت کو ’انتہائی مراعات یافتہ ملک ‘ کا درجہ دے، جِس کا بھارت پہلے ہی اعلان کر چکاہے۔

اتوار کو ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں اُنھوں نےکہا کہ علاقائی تجارت کو فروغ دینا’ وقت کی ضرورت ہے‘، خاص طور پر ایسےمیں جب تجارت کے ’فریٹ ریٹ‘ میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ساتھ ہی، ضرورت اِس بات کی ہے کہ باہمی بنیادوں پر دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین عائد ’نان ٹیرف بیرئرس ‘کو ختم کیا جائے۔

اُن سے سوال کیا گیا تھا کہ دونوں ملکوں کےدرمیان تجارت بڑھانےکی کوششیں ہورہی ہیں پاکستان کے لیے اِن کی کیا اہمیت ہے؟ میاں ابرار نے کہا کہ پاکستان کی مارکیٹ 118ملین پرمشتمل ہے جب کہ بھارتی منڈی ایک ارب سے زائد لوگوں پر مشتمل ہے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ انتہائی مراعات یافتہ ملک کا درجہ ملنے سے ’پاکستان کو زیادہ فائدہ ہوگا‘۔

علاقائی تجارت کے بارے میں اُنھوں نے بتایا کہ اِس وقت باہمی تجارت کی شرح پانچ فی صد ہے، جب کہ یورپی یونین کے ساتھ تجارت کی شرح 70فی صد ہے۔

کراچی اور ممبئی کے بارے میں ایک سوال پر، میاں ابرار کا کہنا تھا کہ کراچی وفاق کو سالانہ 68 فی صد روینیو جب کہ ممبئی بھارت کو 35فی صد آمدن دیتا ہے۔اُنھوں نے بتایا کہ ممبئی اور کراچی ایوان ہائے تجارت نے مل کر کراچی ممبئی بین الاقوامی چیمبر کی داغ بیل ڈالی ہے۔

چیمبر کے صدرنے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر بھارت و پاکستان کے درمیان ایک ’شپنگ لائن‘ شروع کی جائے، جِس کا فقدان باہمی تجارت پر نقصاندہ اثرات ڈال رہا ہے۔

تفصیل کے لیے آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG