رسائی کے لنکس

بھارت: پاکستانی ہندو واپس جانا نہیں چاہتے

  • واشنگٹن

پاکستانی ہندو

پاکستانی ہندو

پاکستان سے حال ہی میں بھارت جانے والے ہندوؤں کے ایک گروپ نے مذہبی تعصب کی بنیاد پر سیاسی پناہ کی درخواست کی ہے۔

پاکستان کی مغربی سرحد کے قریب واقع بھارتی شہر جودھ پور میں پہنچنے والے ہندووں کے اس گروپ میں تقریباً 170 افراد شامل ہیں۔ ان میں سے اکثر کا تعلق کھیتی باڑی سے ہے۔

پاکستان سے آنے والے ہندووں کے بحالی کے لیے جودھ پور میں ایک تنظیم کام کررہی ہے، جس کے سربراہ سنگھ سودھا ہیں۔ ان کا کہناہے کہ پاکستان سے بھارت ہندووں کی آمد نئی نہیں ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں سرحد پار سے آنے والا یہ سب سے بڑا گروپ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ہندو اب بھارت میں ہی رہنا چاہتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے کہ ان کے ساتھ مذہب بنیاد پر تعصب برتا جاتا ہے۔

اس سال اگست سے اب تک ایک اندازے کے مطابق 400 پاکستانی ہندو بھارت جاچکے ہیں۔وہ یاترا کے ویزے پر بھارتی پنجاب اور راجستھان کی ریاستوں میں گئے ہیں۔

پاکستانی ہندووں نے مقامی میڈیا کو بتایا ہے کہ اب وہ واپس جانا نہیں چاہتے۔ ان کا کہناتھا کہ پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے لیے حالات دن بدن خراب تر ہوتے جارہے ہیں اور پاکستان میں بہت سے ہندووں کو مبینہ طور پر ہراساں کیا جاتا ہے، انہیں مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، ان سے تاوان لیا جاتا ہے اور ہندولڑکیوں سے جبراً شادیاں کر لی جاتی ہیں۔

پاکستان کے عہدےد ار ان رپورٹس کومسترد کرتے ہیں اور وہ متعدد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کے ملک میں ہندو برادری محفوظ ہے اور اسے کسی طرح کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔

پاکستان میں گذشتہ ماہ صدر آصف زرداری کی جانب سے مقرر کردہ کمیٹی نے بتایا ہے کہ اسے صوبہ سندھ سے بڑے پیمانے پر بھارت کی جانب ہندووں کی نقل مکانی کے شواہد نہیں ملے
ایک اندازےکے مطابق پاکستان میں 25 لاکھ ہندوآباد ہیں۔

نئی دہلی میں قائم ساؤتھ ایشیا ڈاکومنٹیشن سینٹر کے ایک عہدے دار روی نائر کا کہناہے کہ ترک وطن کرنے والے زیادہ تر ہندو بے زمین زرعی مزور ہیں اور وہ بھارت میں بہتر مواقعوں کی تلاش میں آتے ہیں۔ لیکن ان کا یہ بھی کہناتھا کہ بڑھتی ہوئی مذہبی عدم برداشت بھی اس کی ایک وجہ بن رہاہے۔

حال میں بھارت جانے والا ہندووں کا گروپ ، جس کی قیادت چتن رام کررہے ہیں، جودھ پور میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کی کوشش کررہاہے۔ چتن رام نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ وہ اپنے تین بچوں کے ساتھ بھارت آئے ہیں اور ان کے خاندان کو وہاں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاتھا۔

انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پاکستان میں انہیں عزت کی نظر سے نہیں دیکھا جاتاتھا۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل ان کے والد کا انتقال ہوگیا تھا لیکن ان کی آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے انہیں کوئی جگہ نہیں مل سکی۔ ان کا یہ بھی کہناتھا کہ کھیتوں میں سخت محنت مزوری کرنے کے بعد اکثر اوقات انہیں وعدہ کے مطابق معاوضہ نہیں دیا جاتا تھا۔

ابھی تک بھارتی حکومت اس مسئلے کو زیادہ اچھال نہیں رہی ہے۔روی نائر کہتے ہیں کہ اگرچہ بھارتی عہدے دار یاترا کے ویزوں پر آنے والے ہندووں پر یہ زور نہیں دیں گے کہ وہ اپنے ملک واپس چلے جائیں لیکن وہ یہ بھی نہیں چاہتے کہ اس مسئلے کو زیادہ اہمیت ملے۔

بھارت کا کہناہے کہ گذشتہ تین سال کے دوران پاکستان سے آنے والے تقریباً تین ہزار ہندو اپنے وطن واپس نہیں گئے ہیں۔اور ان کے ویزوں کی مدت میں ان کی درخواست پر اضافہ کردیا جاتا ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG