رسائی کے لنکس

کمیٹی کے سربراہ اور بھارت کے سابق چیف جسٹس جے ایس ورما نے امید ظاہر کی ہے کہ بھارتی پارلیمان ان کی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں جلد قانون سازی کرے گی۔

بھارتی حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی ایک کٹینے نے جنسی جرائم کے خلاف موجود قوانین کے سختی سے نفاذاور ان کا ارتکاب کرنے والے مجرموں کے لیے سزائیں مزید سخت کرنے کی سفارشات پیش کی ہیں۔

حکومت نے یہ کمیٹی دارالحکومت نئی دہلی میں گزشتہ ماہ ایک طالبہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی اندوہناک واردات کے بعد متعلقہ قوانین کے جائزے کے لیے تشکیل دی تھی۔

اس واردات میں مبینہ طور پر چھ افراد نے ایک چلتی بس میں 23 سالہ طالبہ کو اجتماعی زیادتی اور شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد سڑک پر پھینک دیا تھا۔

طالبہ بعد ازاں کئی روز کے علاج کے باوجود زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگئی تھی۔ واقعے کے بعد بھارت بھر میں شدید احتجاج ہوا تھا اور مختلف حلقوں نے عورتوں کے تحفظ اور انہیں جنسی جرائم کا نشانہ بننے سے بچانے کے لیے موثر قانون سازی کا مطالبہ کیا تھا۔

تین رکنی کمیٹی کے سربراہ اور بھارت کے سابق چیف جسٹس جے ایس ورما نے بدھ کو پیش کی جانے والے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ خواتین پر جنسی حملوں کی روک تھام کے لیے ان جرائم کی سزائیں سخت کی جائیں اور مجرموں کے خلاف عدالتی کاروائی میں تیزی لائی جائے۔

جے ایس ورما نے امید ظاہر کی ہے کہ بھارتی پارلیمان ان کی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں جلد قانون سازی کرے گی۔

خیال رہے کہ بھارت میں جنسی زیادتی سمیت بیشتر جرائم کے خلاف موجود قوانین برطانوی نو آبادیاتی دور میں بنائے گئے تھے جنہیں اب فرسودہ سمجھا جاتا ہے۔

ان قوانین کے تحت خواتین کے ساتھ زیادتی کا ارتکاب کرنے والے مجرموں کو کم از کم سات سال اور زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے جب کہ عملاً بھارتی عدالتیں اس جرم میں مجرموں کو 10 سے 14 سال قید کی سزا دیتی ہیں۔

خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی کرنے والے مجرموں کو موجودہ قوانین کے تحت کم از کم 10 سال اور زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔

کمیٹی نے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ خواتین کےخلاف ہونے والے جرائم پر کاروائی نہ کرنے والے پولیس اہلکاروں اور دیگر حکام کے لیےبھی سزائیں تجویز کی جائیں۔

کمیٹی نے پولیس تھانوں میں جنسی زیادتی کا شکار بننے والی خواتین کے ساتھ اچھے برتائو ، جنسی جرائم کے مقدمات میں سیاسی مداخلت کے خاتمے اور زیادتی کا نشانہ بننے والی خواتین کے طبی معائنے سے متعلق معاملات بھی بہتر بنانے کی تجاویز دی ہیں۔
XS
SM
MD
LG