رسائی کے لنکس

پاکستان اور بھارت امن مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے لیے تیار


پاکستان اور بھارت امن مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے لیے تیار

پاکستان اور بھارت امن مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے لیے تیار

اب جب کہ پاکستان اور بھارت دوسال سے زیادہ عرصے کے بعد امن مذاکرات کا دوبارہ آغاز کرنے کے لیے تیار ہیں، بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کہاہے کہ اختلافات کے حل کا واحد ذریعہ مذاکرات ہی ہیں۔ بھارتی راہنما نے ملک میں افراط زر کے مسئلے سے نمٹنے اور رشوت ستانی میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے عزم کا بھی اظہار کیا

بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے جمعرات کے روز پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات معمول پر لائے بغیر جنوبی ایشیا اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکتا۔

مسٹر سنگھ نے کہا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ اپنے تمام اہم مسائل حل کرنے کا خواہش مند ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری اور اہم چیز یہ ہے کہ اسلام آباد بھارت کے خلاف دہشت گردوں کو اپنی سرزمین استعمال کرنے سے روکے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے توقع اوریقین ہے کہ پاکستان کے نئے حکمران طبقے ہمارا دوستی کا ہاتھ تھامیں گے اور یہ تسلیم کریں گے کہ ہمارے چاہے جو بھی اختلافات ہوں، ریاست کی ایک پالیسی کے طورپر دہشت گردی ایک ایسی چیز ہے جسے کوئی بھی مہذب معاشرہ قبول نہیں کرتا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ آج ہمیں ایک ایسا ماحول میسر ہے جس میں گفت و شنید آگے بڑھانے میں مدد گار ثابت ہوسکتا ہے، لیکن امیدافزا اشارے موجود ہیں۔

اس مہینے کے شروع میں دونوں ممالک نے امن کے اس عمل کا پھر آغاز کرنے کا فیصلہ کیا تھا جسے نئی دہلی نے پاکستان میں قائم ایک اسلامی عسکریت پسند تنظیم پر 2008ء کے ممبئی دہشت گرد حملوں کاالزام لگا کرروک دیا تھا۔

دونوں ممالک کے خارجہ امور کے سیکرٹری بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں مارچ میں ملاقات کریں گے ۔ جب کہ دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کی ملاقات جولائی میں ہوگی۔

پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات پر بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کا یہ بیان پارلیمنٹ میں ان کی ایک تقریر کے دوران سامنے آیا جس میں انہوں نے ان مسائل کے حل کے لیے ، جن کا ان کی حکومت کو سامنا ہے، اپنی حکومت کی ترجیحات کا ایک خاکہ پیش کیا۔

بھارتی راہنما نے اس سال کے آخر تک افراط زر کی شرح کم کرکے سات فی صد تک لانے کا عزم بھی ظاہر کیا۔ پچھلے سال بھارت میں افراط زر کی شرح 10 فی صد سے بھی زیادہ تھی۔ جب کہ کھانے پینے کی چیزوں میں یہ اس سے بھی بلند تھی ، جس نے ایک ایسے ملک میں جہاں لاکھوں افراد غربت کی زندگی بسر کررہے ہیں، تشویش میں اضافہ کردیا تھا۔

بھارتی وزیر اعظم نے اس یقین دہانی کے لیے کہ ان کی حکومت خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات سے غریب عوام کو بچانے کے لیے ایک نیاقانون پارلیمنٹ میں ایک نیا قانون لانے کا وعدہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ افراط زر کے مسئلے سے اس انداز میں نمٹا جائے گا جس سے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب نہ ہوں۔ مسٹر سنگھ کا کہنا تھا کہ بھارتی معیشت بہتر رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG