رسائی کے لنکس

سرحد پار سے مبینہ دہشت گردی پر بھارت کا پاکستان سے احتجاج


ترجمان بھارتی وزارت خارجہ ویکاس سواروپ (فائل فوٹو)

ترجمان بھارتی وزارت خارجہ ویکاس سواروپ (فائل فوٹو)

بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ 20 سالہ بہادر علی کا تعلق پاکستان کے شہر لاہور کے مضافاتی علاقے رائے ونڈ کے ایک گاؤں جیا بگا کا رہائشی ہے اور اس نے اعتراف کیا کہ وہ لشکر طیبہ کے کیمپوں سے تربیت حاصل کر کے بھارت میں داخل ہوا۔

بھارت نے پاکستان پر سرحد پار سے دہشت گردی جاری رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔

منگل کو بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان ویکاس سواروپ نے ٹوئٹر پر جاری ایک بیان میں بتایا کہ سیکرٹری خارجہ ایس جے شنکر نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کو طلب کیا اور احتجاجی مراسلہ ان کے حوالے کیا۔

مراسلے میں کہا گیا کہ گزشتہ ماہ ایک پاکستانی شہری بہادر علی کو بھارت کے زیرانتظام کشمیر سے گرفتار کیا گیا جو کہ مبینہ طور پر لشکرطیبہ کا دہشت گرد ہے اور اس کے قبضے سے اے کے 47 بندوق، دستی بم، اسلحہ اور جدید مواصلاتی آلات برآمد ہوئے۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ 20 سالہ بہادر علی کا تعلق پاکستان کے شہر لاہور کے مضافاتی علاقے رائے ونڈ کے ایک گاؤں جیا بگا کا رہائشی ہے اور اس نے اعتراف کیا کہ وہ لشکر طیبہ کے کیمپوں سے تربیت حاصل کر کے بھارت میں داخل ہوا۔

پاکستان کی طرف سے تاحال اس بھارتی دعوے پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا لیکن نئی دہلی کی طرف سے اس دعوے سے ایک روز قبل ہی پاکستان کے جنوب مغربی شہر کوئٹہ میں ہونے والے بم دھماکے کے بعد پاکستانی عہدیداروں کی طرف سے یہ بیانات سامنے آئے تھے اس میں مبینہ طور پر بھارت کی خفیہ ایجنسی "را" ملوث ہے۔

ویکاس سواروپ کے بقول گرفتار مشتبہ دہشت گرد نے قانونی معاونت اور اپنے خاندان سے ملاقات کی درخواست بھی کی ہے۔

XS
SM
MD
LG