رسائی کے لنکس

بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ نے اپنے اس شہری کی موت پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سربجیت پر حملے میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

بھارت نے جاسوسی اور بم دھماکوں کے الزامات میں پاکستان میں قید سربجیت سنگھ کی موت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

سربجیت سنگھ کو پاکستانی عدالتوں سے سزائے موت سنائی جا چکی تھی اور صدر مملکت سے کی جانے والی اس کی رحم کی اپیل پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا تھا۔

گزشتہ جمعہ لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں دو قیدیوں نے حملہ کرکے سربجیت سنگھ کو شدید زخمی کردیا تھا جو تقریباً پانچ روز اسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب انتقال کرگیا۔

بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ نے اپنے اس شہری کی موت پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سربجیت پر حملے میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

ایک بیان میں بھارتی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’’یہ بہت افسوسناک بات ہے کہ اسلام آباد نے اس کیس میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کی جانے والی ہماری کسی درخواست کا جواب نہیں دیا۔‘‘

اس سے قبل بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ سربجیت سنگھ کی موت سے دونوں ملکوں کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔

’’جو تعلقات ہیں وہ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان ہیں ان کے ملنے سے بنتے ہیں، مجھے لگتا ہے اس سے تعلقات کو دھچکہ لگا ہے اور یہ بڑے ہی دکھ کی بات ہے۔‘‘

سربجیت سنگھ کی موت کے بارے میں پاکستانی دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ اسپتال میں مسلسل کومہ میں رہا اور ڈاکٹروں کی بھر پور کوشش کے باوجود سربجیت دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگیا۔

سربجیت سنگھ کی میت جمعرات کو بھارتی ریاست پنجاب کے شہر امرتسر پہنچائی جائے گی اور اس کی آخری رسومات جمعہ کو آبائی علاقے میں ادا کی جائیں گی۔
XS
SM
MD
LG