رسائی کے لنکس

بھارت کی جانب سے زمین کے مدار میں کامیابی کے ساتھ سیٹلائٹ بھیجنے کے بعد ماہرین کا کہناہے کہ اس لانچ سے کرہ ارض کی تفصیلی معلومات کے حصول میں بھارتی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے جمعرات کے روز ایرو سپیس ماہرین کو ایک راکٹ کے ذریعے تصاویر کے حصول کے لیےتقریباً دو ہزار کلوگرام وزنی سیٹلائٹ زمین کے مدار میں کامیابی سے لانچ کرنے پر مبارک باد دی ہے۔

خلائی تحقیق سے متعلق بھارتی ادارے کے چیئرمین کے رادھا کرشنن نے سیٹلائٹ کی لانچنگ کو بھارت کی فتح سے تعبیر کیا ہے۔

ان کا کہناہے کہ ابتدائی اعدادوشمار یہ ظاہر کررہے ہیں کہ ہمارا سیٹلائٹ زمین کے مدار میں 470 سے 480 کلومیٹر کی دوری پر لانچ ہوگیا ہے۔

بھارتی سیٹلائٹ کا نام آرآئی سیٹ ون ہے جس سے مراد ریڈار امیجنگ سیٹلائٹ ہے ۔ اس سے قبل زمین کے مدار میں بھیجے جانے والے سیٹلائٹ کے برعکس جو کیمروں کے ذریعے زمین کی تصاویر اتارتاتھا، نیا سیٹلائٹ مائیکروویو سگنلز کے ذریعے زمین کی تصویری معلومات اکٹھی کرے گا۔

نئی دہلی میں قائم انسٹی ٹیوٹ یار ڈیفنس سٹڈیز اینڈ انیلیسز کے ایک اسکالر ڈاکٹر اجے لیل کا کہناہے کہ زمین پر چاہے جیسی بھی صورت حال کیوں نہ ہو، سیٹلائٹ کے سینسر انتہائی واضح تصاویر حاصل کرسکیں گے۔

وہ کہتے ہیں کہ سینسر سے آپ کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ آپ ہر طرح کے موسمی حالات میں، اور چاہے صبح ہویا دن ہو یا رات، کسی بھی وقت واضح تصویریں حاصل کرسکتے ہیں اور اس صورت حال کا سیٹلائٹ کے سینسر پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

ہر طرح کے موسمی حالات میں کام کرنے والا سیٹلائٹ بھارت کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے جسے ہر سال مون سون کے دوران گہرے بادلوں کے باعث اپنے عدسی کیمرے کے سیٹلائٹ کی تصویری صلاحیت متاثر ہونے کے مسائل سے گذرنا پڑرہاتھا۔

انڈین سپیس ریسرچ آرگنائزیشن کے ڈائریکر ٹی کے ایلکس کہتے ہیں کہ اس سے پہلے ہمیں اس صورت حال میں صرف بادلوں کی تصویریں حاصل ہوتی تھی ۔ مگر نئے سیٹلائٹ سے کئی اورفوائد بھی حاصل کیے جاسکیں گے جسے آئندہ برسوں میں انہیں ہم اپنے موسموں کی بہتر پیش گوئی کے لیے استعمال کرسکیں گے۔

تصاویر اتارنے کے علاوہ آرآئی سیٹ ون بادلوں کے درجہ حرارت ، ان کی رفتار اور ہوا میں نمی کی مقدار کے بارے میں بھی معلومات اکھٹی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ فار ڈیفنس سٹڈیز کے لیل کا کہناہے کہ بھارتی حکومت اس سیٹلائٹ سے کئی اورکام بھی لے سکتی ہے۔

آرآئی سیٹ ون کی عمر کا تخمینہ پانچ سال لگایا گیا ہے اور وہ روزانہ زمین کے گرد 14 چکر لگائے گا۔

اس سٹیلایٹ کو زمین کے مدار میں بھیجنے سے بھارت کو معاشی فوائد بھی حاصل ہوں گے اور ان ممالک کی بھارت میں دلچسپی بڑھے گی جنہیں تیکنکی معلومات درکار ہوں گی یا جنہیں اپنا سیٹلائٹ مدار میں بھیجنے کے لیے بھارتی معاونت درکار ہوگی۔

XS
SM
MD
LG