رسائی کے لنکس

بابری مسجد: عدالتی فیصلے سے قبل سکیورٹی کے سخت اقدامات


1992 ء میں ہندو انتہاپسندوں نے بابری مسجد منہدم کر دی جس کے بعد ملک میں ہونے والے پرتشد د واقعات میں دو ہزار سے زائد لوگ مارے گئے۔

1992 ء میں ہندو انتہاپسندوں نے بابری مسجد منہدم کر دی جس کے بعد ملک میں ہونے والے پرتشد د واقعات میں دو ہزار سے زائد لوگ مارے گئے۔

بھارت کے وزیر داخلہ پی چدمبر م نے کہا ہے کہ بابری مسجد اور رام مندر کے تنازع پر متوقع عدالتی فیصلے سے کسی ایک فریق کی ہار یا جیت نہیں ہوگی اور اُنھوں عوام سے پرامن رہنے کی اپیل بھی کی ہے۔

بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں پی چدمبر م نے بتایا کہ اس حساس مسئلے پر عدالتی فیصلے سے قبل منفی پیغامات کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ”Bulk “یا ایک ساتھ بہت سے لوگوں کو ایس ایم ایس بھیجنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

بھارتی حکام نے عدالتی فیصلے کے بعد مظاہروں کے خدشات کے پیش نظر ملک بھر میں ہزاروں پولیس اہلکار تعینات کر دیے ہیں۔ ریاست اترپردیش کی عدالت جمعرات کو یہ فیصلہ سنائے گی کہ ایودھیا میں منہدم کی جانے والی بابری مسجد کی جگہ کو ہندوؤں یا پھرمسلمانوں کے حوالے کیا جائے۔

ہندوگروہوں کا کہنا ہے کہ سولہویں صدی میں جہاں بابری مسجد تعمیر کی گئی تھی وہ ہندوؤں کے دیوتا رام کی جائے پیدائش یا”جنم استھان“ تھی اور مسجد رام مندر کو گرا کر تعمیر کی گئی تھی۔ 1992 ء میں یہ تنازع شدت اختیار کرگیااور ہندو انتہاپسندوں نے بابری مسجد منہدم کر دی جس کے بعد ملک میں ہونے والے پرتشد د واقعات میں دو ہزار سے زائد لوگ مارے گئے۔

مسلمان اس جگہ پر دوبارہ مسجد کی تعمیر کا مطالبہ کررہے ہیں۔ توقع کی جارہی ہے عدالت یہ فیصلہ کرے گی کہ آیا یہ جگہ دیوتا رام کی جائے پیدائش تھی اور کیا رام مندر کو گرانے کے بعد یہ مسجد بنائی گئی تھی یا نہیں۔

توقع کی جارہی ہے کہ اس حساس اور ملکی تاریخ کے اہم معاملے پراترپردیش کی عدالت کے فیصلے کوسپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG