رسائی کے لنکس

وزیر مملکت برائے داخلہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ "ہم باغیوں کو گرفتار کرنے اور ان کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لئے پر عزم ہیں چاہیے یہ ملک کے اندر ہوں یا ملک کے باہر ہوں " ۔

بھارت نے گزشتہ ہفتے آسام میں کم ازکم 80 افراد کو ہلاک کرنے والے قبائلی عسکریت پسند گروہ کے خلاف سخت کارروائی کے لیے بھوٹان، میانمار اور بنگلہ دیش سے تعاون طلب کیا ہے۔

پولیس کا خیال ہے کہ نیشل ڈیموکریٹک فرنٹ آف بوڈولینڈ (این ڈی ایف بی) تنظیم سے منسلک ایک گروہ آسام میں چائے کے باغوں میں کام کرنے والے کارکنوں کے خلاف ہونے والے مہلک حملے کا ذامہ دار ہے۔

این ڈی ایف بی ایک علیحدگی پسند تنظیم ہے جو نسلی بوڈو قبائل کے لیے ایک علیحدہ وطن کے لیے مسلح کارروائیاں کرتا آ رہی ہے۔

پولیس اور عہدیداروں کا کہنا ہے کہ کچھ شدت پسند ہمسایہ ملک بھوٹان فرار ہو گئے ہیں جبکہ خیال کیا جا رہا ہے کہ ان کے رہنما میانمار (جسے برما بھی کہا جاتا ہے ) میں ہیں جس بنا پر ان ممالک سے تعاون طلب کیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے رائیٹرز نے بھارت کے وزیر مملکت برائے داخلہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ "ہم باغیوں کو گرفتار کرنے اور ان کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لیے پر عزم ہیں چاہیے یہ ملک کے اندر ہوں یا ملک کے باہر ہوں " ۔

آسام بھارت کے دوردراز شمال مشرقی علا قے میں ان سات ریاستوں میں سے ایک ہے جہاں اسے 200 سے زائد قبائل اور درجنوں بغاوتوں کا سامنا ہے جن میں کچھ کا مطالبہ زیادہ خود مختاری جبکہ دوسرے مکمل علیحدگی چاہتے ہیں۔

تازہ ترین حملہ میں نشانے بننے والوں میں سے نصف خواتین اور بچے تھے۔

بھارت کے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ جو متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کے لیے آسام پہنچے تھے، نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ "یہ دہشت گردی ہے، دہشت گردی کسی طور بھی قبول نہیں ہے"۔

بھارت کا شمالی مشرقی علاقہ جس کے گردو نواح میں چین، میانمار، بنگلہ دیش اور بھوٹان کے ممالک واقع ہیں اور یہ عام خیال کیا جاتا ہے کہ عسکریت پسند ان سرحدوں کو استعمال کرتے ہیں جو گھنے جنگل والے پہاڑی علاقے سے گرزتی ہیں۔

بوڈو شدت پسندوں کے حملوں سے بچنے کے لیے7,000 کے قریب خاندان آسام سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے اور یہ پولیس اور فوج کے حفاظت میں قائم عارضی کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG