رسائی کے لنکس

دنیا میں ہونے والی 80 فی صد بین الاقوامی تجارت بحری جہازوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ بحری تجارت کے اس وسیع حجم کے باعث ہر برس سینکڑوں جہازوں کو ان کی مدت پوری ہوجانے کے بعد سبکدوش کردیا جاتا ہے۔

ان متروک جہازوں کی ایک بڑی تعداد بھارت لائی جاتی ہے جہاں جہاز شکنی یعنی 'شپ بریکنگ' باقاعدہ ایک صنعت کا درجہ رکھتی ہے۔ لیکن ماہرین اس بھارتی صنعت کے جرائم پیشہ گروہوں سے روابط، جہاز شکنی کے ماحول پر اثرات اور اس صنعت سے جڑے ہزاروں مزدوروں کی حالتِ زار کی باقاعدہ نگرانی کے کسی نظام کی عدم موجودگی سے پریشان ہیں۔

بھارت کے ساحلی صوبے گجرات کا شمار دنیا میں بحری جہازوں کے چند بڑے قبرستانوں میں ہوتا ہے۔ ہر برس یہاں سینکڑوں متروک بحری جہاز لائے جاتے ہیں جنہیں توڑنے اور ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے بعد ان کا خام مال کسی اور استعمال کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔لیکن یہاں ہونے والے جہاز شکنی کے اس عمل کے مشاہدے کی اجازت حاصل کرنا ایک انتہائی مشکل کام ہے۔

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کی 'جواہر لعل نہرو یونی ورسٹی' سے منسلک محقق ڈیماریا کو 2009ء میں گجرات کے 'آلنگ' نامی ساحلی قصبے میں قائم اس صنعت کی سرگرمیوں کے مشاہدے کا موقع ملا تھا۔

ڈیماریا بتاتے ہیں کہ مزدور بغیر کسی حفاظتی انتظام کے ہاتھوں میں بڑے بڑے آرے اٹھائے جہاز میں داخل ہوجاتے ہیں اور اس کے ٹکڑے کرتے ہیں۔ اس عمل کے دوران میں جہاز کے ڈھانچے سے کٹ کر علیحدہ ہونے والے دو سے تین ٹن وزنی اسٹیل کے یہ ٹکڑے ساحل پر گرتے ہیں اور بعض اوقات ان کی زد میں نیچے زمین پر موجود مزدور بھی آجاتے ہیں۔

بھارت میں اس صنعت کی وکالت کرنے والوں کا موقف ہے کہ اس کے ذریعے سستا اسٹیل حاصل ہوتا ہے جسے 'ری سائکیلنگ' کے بعد معاشی سرگرمیوں میں کام میں لایا جاسکتا ہے۔ ان کے بقول اس صنعت کے ذریعے صنعتی ترقی کو فروغ مل رہا ہے اور ہزاروں لوگوں کو روزگار میسر ہے۔

لیکن ڈیماریا جیسے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس صنعت سے جڑے مزدوروں کو صحت کی بنیادی سہولیات میسر ہیں اور نہ ہی انہیں مناسب رہائش دستیاب ہے۔ نااقدین کے بقول اس صنعت میں حادثوں کی شرح بہت زیادہ ہے لیکن کسی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں مزدوروں کو کسی قسم کا زرِ تلافی ادا نہیں کیا جاتا۔

برسوں سے یورپ جہاز شکنی کا اہم مرکز رہا ہے جہاں یہ صنعت مناسب پابندیوں اور حکام کے زیرِ نگرانی فروغ پارہی ہے۔ لیکن 'گلوبلائزیشن' کے باعث یہ صنعت 'آلنگ' جیسے غریب علاقوں تک آپہنچی ہے جہاں یہ ہر قسم کی نگرانی اور پابندیوں سے آزاد ہے۔

بحری جہازوں کی مالک کمپنیاں اپنے پرانے جہاز ایسی دلال کمپنیوں کے ہاتھوں فروخت کرتی ہیں جن کا وجود صرف کاغذ پر ہوتا ہے۔ بعد ازاں یہ کمپنیاں انہیں جہاز شکنی سے منسلک بھارتی تاجروں کو فروخت کردیتی ہیں۔

ماحولیاتی تحفظ کے لیے سرگرم بھارتی رضاکار گوپال کرشنا کا کہنا ہے کہ جہاز شکنی کی یہ صنعت صرف مزدوروں ہی کے لیے مہلک ثابت نہیں ہورہی بلکہ یہ پورے ماحولیاتی نظام اور اس پر انحصار کرنے والی حیات پر بھی منفی اثر ڈال رہی ہے۔

ڈیماریا اور کرشنا نے رواں ہفتے نئی دہلی میں جہاز شکنی کی بھارتی صنعت کی صورتِ حال پر دو دستاویزات کا اجراء کیا ہے۔ ان دستاویزات میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر اس صنعت کے لیے مناسب قواعد و ضوابط وضع نہ کیے گئے تو اس سے مغربی دنیا بھی متاثر ہوگی کیوں کہ اس صنعت سے حاصل ہونے والے آلودہ اسٹیل کو مغربی ممالک برآمد کیا جاتا ہے۔

دونوں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت اس صنعت کو منظم اور جدید خطوط پر استوار کرنے میں ناکام رہا تو آئندہ 10 برسوں کے دوران میں جہاز شکنی کی یہ صنعت چین منتقل ہوجائے گی۔

XS
SM
MD
LG