رسائی کے لنکس

بھارتی حکومت اور ناگالینڈ باغیوں کے درمیان امن معاہدہ


بھارتی وزیرِاعظم مودی نے "معاہدے کو ایک نئے دور کا آغاز" قرار دیا ہے۔

بھارتی وزیرِاعظم مودی نے "معاہدے کو ایک نئے دور کا آغاز" قرار دیا ہے۔

بھارتی حکومت اور ناگالینڈ کی باغی تنظیم نیشنلسٹ سوشلسٹ کونسل کے درمیان 1997ء سے امن مذاکرات جاری تھے۔

بھارت کی حکومت نے شمال مشرقی ریاست ناگالینڈ کے علیحدگی پسند باغیوں کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کردیے ہیں۔

معاہدے پر دستخط وزیرِاعظم نریندر مودی کی حکومت کے نمائندوں اور ریاست میں سرگرم ایک بڑی باغی تنظیم 'نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ' کی قیادت نے پیر کو نئی دہلی میں کیے۔

مذکورہ تنظیم ان کئی باغی گروہوں میں سے ایک ہے جو گزشتہ 60 برسوں سے ناگالینڈ کی بھارت سے آزادی اور پڑوسی ملک میانمار کے بعض حصوں کو ملا کر اسے ایک الگ ریاست بنانے کے لیے مسلح جدوجہد کر رہے ہیں۔

بھارتی حکومت اورنیشنلسٹ سوشلسٹ کونسل کے درمیان 1997ء سے امن مذاکرات جاری تھے۔

پیر کو معاہدے پر دستخط کے بعد نئی دہلی میں باغی تنظیم کے شریک بانی اور سیکریٹری جنرل تھوئنگلنگ موئیوا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بھارتی وزیرِاعظم مودی نے "معاہدے کو ایک نئے دور کا آغاز" قرار دیا۔

بھارتی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے اقتدار سنبھالنے کے بعد بھارت کے شمال مشرقی علاقوں کی تعمیر و ترقی اور وہاں قیامِ امن کو اپنی ترجیحات میں اولین مقام دیا ہے۔

تاحال امن معاہدے کی شرائط اور تفصیلات منظرِ عام پر نہیں آئی ہیں اور نہ ہی یہ واضح ہے کہ ناگالینڈ میں سرگرم دیگر علیحدگی پسند تنظیمیں اس پر کیا ردِ عمل ظاہر کریں گی۔

ناگالینڈ اور اس سے متصل دیگر بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں میں ایک طویل عرصے سے علیحدگی کی تحریکیں جاری ہیں جن میں وقت کے ساتھ ساتھ اتار چڑھاؤ آتے رہے ہیں۔

پریس کانفرنس میں وزیرِاعظم مودی کا کہنا تھا کہ انہوں نے بھارت کی تاریخ کے قدیم ترین مسلح تنازعے کو معاہدے کے ذریعے پرامن طور پر حل کردیا ہے اور وہ دیگر چھوٹے علیحدگی پسند گروہوں کو بھی یہی پیغام دیں گے کہ وہ ہتھیار ڈال دیں۔

XS
SM
MD
LG