رسائی کے لنکس

سکھ کش فسادات پر کانگریس پارٹی کے خلاف نیو یارک میں مقدمہ دائر


سکھ کش فسادات پر کانگریس پارٹی کے خلاف نیو یارک میں مقدمہ دائر

سکھ کش فسادات پر کانگریس پارٹی کے خلاف نیو یارک میں مقدمہ دائر

سکھوں کی ایک تنظیم نے بھارت کی سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کی ہلاکت کے بعد ہونے والے سکھ مخالف فسادات کا ذمّہ دار حکمراں کانگریس پارٹی کو ٹھہراتے ہوئے نیو یارک کی ایک سول عدالت میں پارٹی کے خلاف ہرجانے کا مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

Sikhs for Justice یا سکھ برائے انصاف نامی تنظیم کی طرف سے یہ مقدمہ دائر کرنے والے وکیل گرپتونت سنگھ پنون نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ چونکہ نیو یارک میں کانگریس پارٹی کی ایک شاخ انڈین نیشنل اوورسیز کانگریس کے نام سے موجود ہے اس لیے یہ مقدمہ نیو یارک میں دائر کیا جا سکتا ہے۔

مقدمے کی تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 1984 میں ہونے والے فسادات کوئی عام ہندو سکھ فسادات نہیں تھے بلکہ ’ان فسادات سے پہلے میٹنگز ہوئیں، منصوبے بنائے گئے، ووٹروں کی لسٹیں استعمال کی گئیں، ٹرانسپورٹیشن اتھارٹی کا استعمال کیا گیا، سکھ پولیس والوں کو انتظامی ڈیوٹیوں پر لگایا گیا‘‘ اور 100 سے زائد شہروں میں سکھوں کو بہت منظّم طریقے سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔

دائر کردہ مقدمے میں کانگریس کے چند رہنماؤں کے بجائے پوری پارٹی کو ان فسادات اور سکھوں کی ہلاکت کا ذمّہ دار قرار دیا گیا ہے۔

مسٹر پنون نے یہ الزام بھی لگایا کہ اگرچہ خود بھارتی حکومت کے مطابق ان فسادات میں تین ہزار سکھ ہلاک ہوئے تھے لیکن سرکاری ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ 35 ہزار سے زائد سکھوں کو فسادات میں پہنچنے والے جانی و مالی نقصان کے عوض ہرجانہ ادا کیا گیا ہے جس سے متاثرہ سکھ خاندانوں کی تعداد کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

اس معاملے پر انڈیا میں کئی عدالتی کمیشن بن چکے ہیں جن میں سے آخری ناناوتی کمیشن تھا جس کی رپورٹ 2005 میں آئی تھی۔

نیو یارک میں واقع انڈین نیشنل اوورسیز کانگریس کے ایگزیکٹیو جنرل سیکرٹری جارج ابراہم کے مطابق مذکورہ فسادات میں کچھ لوگوں نے بہت گھناؤنے جرائم کیے تھے جن کے لیے بھارتی وزیر اعظم اور کانگریس پارٹی کی صدر بھارت کی سکھ برادری سے معافی مانگ چکی ہیں اور یہ یقین دہانی بھی کرائی جا چکی ہے کہ ان جرائم کے ذمّہ دار افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ کچھ لوگوں کو سزا بھی مل چکی ہے۔ اس کے باوجود اگر کسی کو شکایت ہے تو یہ معاملہ ان کے بقول بھارتی عدالت میں اٹھانا چاہیے، نہ کہ امریکی عدالت میں۔

تاہم وکیل پنون کا کہنا تھا کہ گزشتہ چھبیس سال سے انڈیا میں حصولِ انصاف میں ناکامی کے بعد اس معاملے پر امریکی عدالت کی مدد لی گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG