رسائی کے لنکس

بھارتی فوجی کی وڈیو کی انٹرنیٹ پر دھوم


تیج بہادر یادوو

بھارت کے وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے ٹوئٹر پر بتایا کہ انھوں نے سپاہی کی حالت زار سے متعلق یہ وڈیو دیکھی ہے اور سیکرٹری داخلہ کو ہدایت کر دی ہے کہ اس بارے میں بی ایس ایف سے رپورٹ طلب کر کے مناسب اقدام کیے جائیں۔

بھارت کی سرحدی محافظوں کی فورس سے تعلق رکھنے والے ایک اہلکار کی ایک وڈیو ان دنوں سوشل میڈیا پر خوب گردش کر رہی ہے جس میں انھوں نے "نامساعد" حالات میں فرائض کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ اپنے اعلیٰ افسران پر "بدعنوانی" کے الزامات عائد کیے ہیں۔

فیس بک پر خود کو تیج بہادر یادوو کے نام سے متعارف کراوتے ہوئے اس اہلکار نے وردی پہنچ رکھی ہے۔ ایک وڈیو میں انھوں نے بتایا کہ ان کا تعلق بارڈ سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کی 29 بٹالین سے ہے۔

برف پوش پہاڑیوں کے سامنے کھڑے یاددو کا کہنا تھا کہ وہ حکومت کو الزام نہیں دیتے کیونکہ ان کے بقول وہ بہت کچھ دیتی ہے لیکن "یہ (سامان) ہم تک پہنچنے سے پہلے ہی بازاروں میں فروخت کر دیا جاتا ہے۔"

ان کے بقول دس سے 11 گھنٹے کی ڈیوٹی کرنے والوں کے لیے حالات بہت ہی خراب ہیں، انھوں نے ناشتے میں دیے جانے والے ایک جلے ہوئے پراٹھے اور چائے کے کپ کے ساتھ بھی وڈیو بنا کر شیئر کی۔

تیج بہادر یادوو نے لوگوں اور خاص طور پر ذرائع ابلاغ سے درخواست کی وہ اس وڈیو کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ اس بارے میں بات اعلیٰ سطح تک پہنچے۔ ان کے بقول انھیں یہ معاملہ اٹھانے پر جان سے جانے کا خطرہ بھی ہے۔

یاددو کی ایک وڈیو کو اپ لوڈ کیے جانے کے بعد محض دو روز کے دوران 70 لاکھ سے زائد لوگوں نے دیکھا اور ایک لاکھ سے زائد بار اسے شیئر کیا گیا۔

ادھر بھارت کے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے ٹوئٹر پر بتایا کہ انھوں نے سپاہی کی حالت زار سے متعلق یہ وڈیو دیکھی ہے اور سیکرٹری داخلہ کو ہدایت کر دی ہے کہ اس بارے میں ’بی ایس ایف‘ سے رپورٹ طلب کر کے مناسب اقدام کیے جائیں۔

’بی ایس ایف‘ نے ٹوئٹر پر کہا کہ وہ اپنے اہلکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے بہت حساس ہے۔ کسی فرد واحد کی اگر کچھ شکایات ہیں تو اس کی تحقیق کی جائے گی اور سینیئر افسر پہلے ہی اس مقام پر پہنچ چکے ہیں۔

بھارت کی فوج سے متعلق اس سے پہلے بھی ایسی خبریں آتی رہی ہیں کہ کچھ اہلکار مبینہ طور پر سینیئرز کے ناروا سلوک یا پھر نامناسب حالات کے باعث خود کشی کرنے پر مجبور ہوئے۔

تیج بہادر یادوو کی وڈیو کو پاکستانی میڈیا میں بھی خوب نشر کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG