رسائی کے لنکس

ممبئی اسٹاک ایکسچینج میں مسلم انڈیکس کا آغاز


ممبئی اسٹاک ایکسچینج میں مسلم انڈیکس کا آغاز

ممبئی اسٹاک ایکسچینج میں مسلم انڈیکس کا آغاز

بھارتی اسٹاک مارکیٹ گزشتہ چند سالوں سے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتی آرہی ہے اور اس میں سرمایہ لگانے والے چھوٹے، بڑے سرمایہ کار ترقی کی نئی منازل طے کررہے ہیں۔

تاہم ہندوستان کے مسلمانوں کیلیے حصص کے کاروبار میں سرمایہ کاری کرنا ایک خاصا پیچیدہ مسئلہ رہا ہے۔ اسلامی قوانین کی رو سے مسلمانوں کیلیے نشہ آور اور دیگر ممنوعہ اشیاء کے کاروبار اور سودی لین دین کرنے والی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی ممانعت ہے۔

اس صورتِ حال کے پیشِ نظر ہندوستانی مسلمانوں کیلیے ممبئی کی اسٹاک ایکسچینج میں ان کمپنیوں پر مشتمل ایک نیا شیئر انڈیکس متعارف کرایا گیا ہے جو اسلامی اصولوں کے مطابق اپنا کاروبار حلال طریقوں سے کررہی ہیں۔

پچاس کمپنیوں پر مشتمل اس انڈیکس کے انتخاب اور تیاری کے کام میں ممبئی کی ایک اسلامی فنانس کمپنی، "تقویٰ ایڈوائزری اینڈ شریعہ انویسٹمنٹ سولیوشنز (تاسیس)"نے ممبئی اسٹاک ایکسچینج کی معاونت کی ہے۔

تاسیس کے ڈائریکٹر فار ریسرچ اینڈ آپریشنز شارق نثار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ "بی ایس ای تاسیس شریعہ 50" نامی اس نئے انڈیکس کی بدولت مسلم سرمایہ کاروں کو شرعی احکامات کے عین مطابق حصص کے کاروبار میں سرمایہ کاری کے مواقع فراہم ہونگے۔

شارق نثار کا کہنا ہے کہ نئے انڈیکس کے اجراء سے ہندوستانی مسلمانوں کیلیے ایک نئی مارکیٹ کے قیام کی راہ ہموار ہوگی۔ ان کے بقول اس انڈیکس سے چھوٹے سرمایہ کار گھر بیٹھے اپنے اخلاقی اور مذہبی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے محفوظ سرمایہ کاری کرسکیں گے۔

شارق نثار کے بقول اس سے قبل یہ سہولت مسلم سرمایہ کاروں کو حاصل نہیں تھی جس کی بدولت یا تو وہ حصص کے کاروبار سے اجتناب برتتے تھے یا انہیں اپنے مذہبی عقائد پر سمجھوتہ کرنا پڑتا تھا۔

ان کے بقول انڈیکس میں رجسٹرڈ کمپنیز کے کاروبار کا ہر ماہ جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ وہ شرعی اصولوں کے عین مطابق اپنے کاروباری امور سرانجام دے رہی ہیں۔ واضح رہے کہ ممبئی کی اسٹاک ایکسچینج میں پہلے ہی کئی ایسی کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں جو مسلم سرمایہ کاروں کیلیے اسلامی اصولوں کے مطابق حلال سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کر رہی ہیں۔ ان کمپنیز میں ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ جیسی صفِ اول کی کئی بھارتی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کی تعداد پندرہ کروڑ سے زائد ہے جو ملک کی کل آبادی کا 13 فی صد ہے۔ تاہم ماضی میں شائع ہونے والی کئی رپورٹوں کے مطابق اسلامی قانون کے تحت عائد پابندیوں اور یکساں سازگار مواقع نہ ملنے کے باعث مسلمانوں کی اکثریت کا ملک کے روایتی معاشی ڈھانچے میں کوئی کردار نہیں۔

شارق نثار کا کہنا ہے کہ ماضی میں ہندوستانی مسلمانوں کیلیے سرمایہ کاری کے مواقع نہ ہونے کے برابر تھے۔ ان کے بقول اکثر مسلمان اپنی جمع پونجی گھروں میں رکھنے کو ترجیح دیتے تھے یا پھر سونے یا ریئل اسٹیٹ کے کاروبار میں سرمایہ لگاتے تھے۔ تاہم انہیں امید ہے کہ نئے انڈیکس کے بعد صورتِ حال تبدیل ہوگی اور مسلمانوں کیلیے نئے معاشی مواقع پیدا ہونگے۔

ماہرین کو امید ہے کہ ہندوستان کی تیزی سے ترقی کرتی معیشت میں دلچسپی رکھنے والے مشرقِ وسطی اور دیگر ممالک کے مسلمان سرمایہ کار بھی ممبئی اسٹاک ایکسچینج کی اس شرعی انڈیکس میں اپنا سرمایہ لگانے میں دلچسپی لینگے۔

XS
SM
MD
LG