رسائی کے لنکس

بھارت میں مزدور تنظیموں کی ملک گیر ہڑتال


بھارت میں ہڑتال کا ایک منظر

بھارت میں ہڑتال کا ایک منظر

بھارت کی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا کہنا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق دو دن کی ہڑتال سے 150 سے 200 ارب روپے کے نقصان کا اندیشہ ہے۔

بھارت کی مزدور یونین نے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، بے روزگاری اور مہنگائی میں اضافے کے علاوہ لیبر یا مزدور پالیسی کے خلاف بدھ سے دو روزہ ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

اس ہڑتال سے سب سے زیادہ متاثر دارالحکومت نئی دہلی اور ملک کا اقتصادی مرکز ممبئی ہوئے ہیں جہاں بیشتر بینک بند اور پبلک ٹرانسپورٹ معطل ہے البتہ اسکول اور دفاتر کھلے ہیں۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق دو روزہ ہڑتال کے پہلے دن بعض علاقوں میں تشدد کی اطلاع بھی ملی ہے۔

مزدور تنظیمیں ملک میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر سخت نالاں ہیں جس کی وجہ سے وہ گاڑیوں کو سڑکوں پر نہیں لانے دے رہے۔

بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے مزدور یونین کے کارکنان سے اپیل کی تھی کہ وہ ہڑتال نہ کریں لیکن یونین کے نمائندوں نے اسے ماننے سے انکار کر دیا۔

مزدور یونین کے ایک نمائندے اختر حسین نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ’’ہم حکومت کی توجہ اس طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے مطالبات پورے کرے اور حکومت کو اس معاملے میں مزید سنجیدگی سے غور کرنا چاہیئے۔‘‘

بھارت کی مغربی ریاست گجرات میں تقریباً آٹھ ہزار سرکاری بسیں سڑکوں پر نہیں چل رہی ہیں اور ہڑتال کی وجہ سے بینک کاری کا نظام متاثر ہوا ہے۔

بھارت کی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا کہنا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق دو دن کی ہڑتال سے 150 سے 200 ارب روپے کے نقصان کا اندیشہ ہے۔
XS
SM
MD
LG