رسائی کے لنکس

پاکستان اور بھارت دہشت گردی کے خلاف تعاون پر آمادہ


پاکستان اور بھارت دہشت گردی کے خلاف تعاون پر آمادہ

پاکستان اور بھارت دہشت گردی کے خلاف تعاون پر آمادہ

پاکستان نے ایک بھارتی عدالتی کمیشن کو ممبئی تحقیقات کے سلسلے میں ملک کا دورہ کرنے کی اجازت دینے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے جس کے طریقہ کار اور ہیت دونوں ملک سفارتی ذرائع سے طے کریں گے۔ اس کے جواب میں بھارتی حکام بھی ممبئی حملوں کے الزام میں پاکستان میں زیر حراست افراد کے خلاف مقدمے کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں ایک پاکستانی عدالتی کمیشن کو ملک کا دورہ کرنے کے لیے اسلام آباد کو آئندہ چار سے چھ ہفتوں میں تاریخوں سے آگاہ کریں گے۔

پاکستان اور بھارت نے دہشت گردی کے خلاف تعاون اور ایسے جرائم میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ایک دوسرے کو دہشت گردی کے خطرات سے فوری طور پرآگاہ کرنے کے لیے داخلہ وزارتوں کے درمیان ”ہاٹ لائن“کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔

منگل کو دونوں ملکوں کے داخلہ سکریٹریوں کے درمیان نئی دہلی میں دوروزہ بات چیت کے اختتام پر جاری ہونے والے ایک مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات میں پاکستانی وفد نے اپنے بھارتی حکام کو ممبئی حملوں کی پاکستان میں تحقیقات اور مشتبہ افراد پر چلائے جانے والے مقدمے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

پاکستان نے ایک بھارتی عدالتی کمیشن کو ممبئی تحقیقات کے سلسلے میں ملک کا دورہ کرنے کی اجازت دینے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے جس کے طریقہ کار اور ہیت دونوں ملک سفارتی ذرائع سے طے کریں گے۔ اس کے جواب میں بھارتی حکام بھی ممبئی حملوں کے الزام میں پاکستان میں زیر حراست افراد کے خلاف مقدمے کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں ایک پاکستانی عدالتی کمیشن کو ملک کا دورہ کرنے کے لیے اسلام آباد کو آئندہ چار سے چھ ہفتوں میں تاریخوں سے آگاہ کریں گے۔

مشترکہ اعلامیہ کے مطابق بھارتی وفد نے سمجھوتا ایکسریس پر مبینہ طور پر ہندو انتہا پسندوں کے ہلاکت خیز حملے کی تحقیقات کی تفصیلا ت کا پاکستانی وفد سے تبادلہ کیا جبکہ عدالت میں اس رپورٹ کو پیش کرنے کے بعد بھی متعلقہ پاکستانی حکام سے اس کی تفصیلات کا تبادلہ کرنے پر اتفاق ہوگیاہے۔

دوروزہ بات چیت میں پاکستانی وفد کی قیادت داخلہ سیکرٹری قمر زمان چودھری جب کہ بھارتی وفد کی سربراہی ہوم سیکرٹری گوپال کے پلائی نے کی۔ داخلہ سیکرٹریوں کی سطح پر ہونے والے اجلاس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان جامع امن مذاکرات کا عمل باضابطہ طور پر دوبارہ شروع ہو گیا ہے جو بھارت نے نومبر 2008ء میں ممبئی پر دہشت گرد حملوں کے بعد یک طرفہ طور پر معطل کر دیا تھا۔

دو سال سے زائد عرصے کے بعد مذاکرات کی بحالی پاک بھارت تعلقات کے لیے انتہائی اہم ہے، لیکن آج کل دونوں ملکوں کی عوام اور مبصرین کی توجہ بدھ کو پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان موہالی میں کھیلے جانے والے عالمی کپ کے سیمی فائنل پر مرکوز ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنے بھارتی ہم منصب من موہن سنگھ کی دعوت پر یہ سنسنی خیز میچ دیکھنے کے لیے موہالی جانے کا اعلان کر رکھا ہے۔

جنوبی ایشیا کے دونوں روایتی حریف ممالک ماضی میں بھی دوطرفہ تعلقات میں تناؤ کم کرنے کی کوشش میں ’کرکٹ ڈپلومیسی‘کا سہارا لیتے رہے ہیں۔ 1987ء میں سابق فوجی صدر ضیاالحق جب کہ 2005ء میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے دونوں ملکوں کی کرکٹ ٹیموں کے مابین میچ دیکھنے کے لیے بھارت کا دورہ کیا تھا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان گذشتہ چھ دہائی سے جاری کشیدگی کی بنیادی وجہ کشمیر کا تنازع ہے۔

XS
SM
MD
LG