رسائی کے لنکس

بھارت: جاپانی لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی، تین افراد گرفتار


فائل فوٹو

فائل فوٹو

جاپانی لڑکی کچھ عرصے سے بھارت میں موجود تھی اور یہاں دیہی زندگی سے متعلق تحقیق میں مصروف تھی۔

بھارت میں پولیس نے ایک 22 سالہ جاپانی لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں تین افراد کو حراست میں لیا ہے۔

ریاست بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جاپانی ریسرچ اسکالر کو بدھ مت کے ایک مقدس کے قریب جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جب کہ پولیس ان دو مشتبہ افراد کی تلاش بھی کر رہی ہے جنہوں نے اس لڑکی کو تقریباً تین ہفتوں تک ایک گھر میں یرغمال بنائے رکھا۔

امریکی خبر رساں ایجنسی "ایسوسی ایٹڈ پریس" نے بہار پولیس کے ایک عہدیدار اکلیش سنگھ کے حوالے سے بتایا کہ جاپانی لڑکی 26 دسمبر کو ان افراد کی قید سے فرار ہو کر کلکتہ پہنچی جہاں اس نے پولیس کو اپنے ساتھ ہونے والے واقعے کی اطلاع حکام کو دی۔

جاپانی لڑکی کچھ عرصے سے بھارت میں موجود تھی اور یہاں دیہی زندگی سے متعلق تحقیق میں مصروف تھی۔

اکلیش سنگھ نے بتایا کہ کلکتہ میں ایک سیاحتی سنٹر سے تعلق رکھنے والا شخص اس جاپانی لڑکی کو "بدھ گیا" دکھانے کے لیے اپنے ساتھ لایا۔ اس مقام کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ گوتم بدھ کو یہاں ایک درخت کے نیچے نروان حاصل ہوا تھا۔

اس شخص نے دیگر چار ساتھیوں کے ساتھ مل کر لڑکی کو یرغمال بنا لیا اور اسے مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے۔

حکام کے مطابق دو لوگوں کو جمعہ کو گرفتار کیا گیا جب کہ ایک شخص کو رواں ہفتے کے اوائل میں گرفتار کیا گیا تھا۔

بھارت میں حالیہ برسوں کے دوران خواتین کے ساتھ اور خصوصاً غیر ملکی سیاح خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

بھارت میں قانون سازی کر کے جنسی زیادتی کے جرم کی سزاؤں میں اضافہ بھی کیا ہے جس میں 20 سال تک کی قید کی سزا بھی شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG