رسائی کے لنکس

بھارت میں سگریٹوں کی تشہیر پر کڑی پابندی عائد


فائل

فائل

نئی پابندی کے تحت مارکیٹنگ کمپنیوں کو سگریٹ کے ڈبے کے 85 فی صد حصے پر صارفین کے لیے تحریری انتباہ اور کینسر کے مریض کی تصویر چھاپنی ہوگی۔

بھارتی حکومت نے ملک میں سگریٹوں کی تشہیر پر کڑی پابندیاں عائد کرتے ہوئے سگریٹ کے ڈبے کے 85 فی صد حصے پر "انتباہ" شائع کرنے کو لازمی قرار دے دیا ہے۔

بدھ کو نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے بھارت کے وزیرِ صحت ہرش وردھن کا کہنا تھا کہ نئی پابندیوں کے نتیجے میں ہر ایک تک یہ پیغام پہنچانا ممکن ہوسکے گا کہ تمباکو نوشی کا مطلب صرف اور صرف موت ہے۔

نئی پابندی کے تحت مارکیٹنگ کمپنیوں کو سگریٹ کے ڈبے کے 85 فی صد حصے پر صارفین کے لیے تحریری انتباہ اور کینسر کے مریض کی تصویر چھاپنی ہوگی۔

وزارتِ صحت کے مطابق سگریٹ کے ڈبے کے 60 فی صد حصے پر کینسر کے مریض کی تصویر جب کہ 25 فی صد حصے پر "انتباہ: سگریٹ نوشی سے گلے کا کینسر ہوسکتا ہے" درج ہوگا۔

وزارتِ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت بھارت میں سگریٹ کے ڈبے کے صرف 20 فی صد حصے پر انتباہ شائع کیا جاتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کو تمباکو نوشی کے نقصانات سے خبردار کرنے کے لیے سگریٹ کے ڈبوں پر تصویری انتباہ شائع کرنے والے دنیا کے 198 ممالک میں بھارت 136 نمبر پر ہے۔

سگریٹ کے ڈبے کے بیشتر حصے پر انتباہ کی اشاعت کا قانون بنا کر بھارت تھائی لینڈ، آسٹریلیا اور یوراگوئے جیسے ممالک کی صف میں شامل ہوگیا ہے جہاں مارکیٹنگ کمپنیاں سگریٹ کے ڈبے کے 80 فی صد حصے پر انتباہ شائع کرنے کی پابند ہیں۔

تمباکو نوشی کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے والی بین الاقوامی تنظیم 'انٹرنیشنل ٹوبیکو کنٹرول پروجیکٹ' کے مطابق ہر سال اندازاً نو لاکھ بھارتی باشندے تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے نتیجے میں موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ اگر بھارت میں تمباکو نوشی کی وبا پر قابو نہ پایا گیا تو یہ تعداد 2020ء تک بڑھ کے 15 لاکھ ہوجائے گی۔

XS
SM
MD
LG