رسائی کے لنکس

بھارت امریکہ دفاعی معاہدہ پر پاکستانی سینیٹر کے خدشات


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین مشاہد حسین سید نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ دو خود مختار ملکوں کے درمیان معاہدے پر کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا۔

بھارت اور امریکہ کے درمیان دفاع کے شعبے میں تعاون سے متعلق ’لاجسٹکس ایکسچینج‘ نامی کلیدی معاہدے کے بارے میں پاکستانی حکومت کی طرف سے تو کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم پاکستان کے ایوان کے بالا کے ایک فعال رکن سینیٹر مشاہد حسین سید کہتے ہیں کہ اس طرح کے معاہدے سے خطے پر کچھ اچھے اثرات نہیں پڑیں گے۔

بھارت کے وزیر داخلہ منوہر پاریکر کے دورہ امریکہ کے موقع پر دونوں ملکوں کے وزرائے دفاع نے اس معاہدے پر پیر کو دستخط کیے تھے۔

اس معاہدے کے تحت امریکی اور بھارتی افواج مرمت اور سامان رسد کی ترسیل کے لیے ایک دوسرے کے فوجی اڈے استعمال کر سکیں گی۔

معاہدے کے بعد امریکہ کے وزیر دفاع ایش کارٹر نے کہا تھا کہ اس پیش رفت سے دونوں ممالک کی افواج کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے میں مدد ملے گی۔

فائل فوٹو

فائل فوٹو

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین مشاہد حسین سید نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ دو خود مختار ملکوں کے درمیان معاہدے پر کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا۔

البتہ اُن کے بقول اگر اس طرح کے معاہدے کے کسی تیسرے ملک پر اثرات ہوں تو یقیناً اُس پر تشویش کا اظہار بھی ہو گا۔

’’ہم نے بطور خود مختار ملک کبھی اعتراض نہیں کیا، بھارت اگر معاہدہ کرے امریکہ سے یا روس سے یا اسرائیل سے۔ لیکن جب چین پاکستان اقتصادی راہداری بناتا ہے یا کسی اور ملک سے ہم کوئی دفاعی معاہدہ کرتے ہیں یا امریکہ سے فوجی امداد حاصل کرتے ہیں تو بھارت فوراً چلا اٹھتا ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ ایک اصول ہونا چاہیئے۔‘‘

مشاہد حسین کے بقول موجودہ دور میں اس طرح کا دفاعی معاہدہ جنوبی ایشیا کے امن کے لیے مفید نہیں ہے۔

’’ہمیں یہ خدشہ ہے کہ یہ جو تعاون ہے بھارت اور امریکہ کا، اس سے کوئی تیاری تو نہیں ہو رہی نئی سرد جنگ کی اور خاص طور پر جو چین کے حوالے سے اور اس خطے کے حوالے سے اور پاکستان کے حوالے سے تو یہ ہمارے بنیادی خدشات یہ ہوں ۔۔۔ ہم پاکستان چین اقتصادی راہداری بھی بنا رہے ہیں ہم (چار ملکی) ترکمانستان، افغانستان، پاکستان، بھارت پائپ لائن بھی بنا رہے ہیں، ہم تو اقتصادی تعاون چاہتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس قسم کی جو جنگی تیاریاں یا فوجی اسلحے کی بنیاد پر اتحاد بن رہے ہیں یہ ایشیا کے امن، استحکام اور خوشحالی کے مفاد میں نہیں ہے۔‘‘

پاکستان اور امریکہ کے دیرینہ تعلقات رہے ہیں اور دونوں ملک دفاع سمیت معاشی اور سماجی ترقی کے شعبوں میں تعاون کرتے رہے ہیں۔

تاہم حالیہ مہینوں میں دو طرفہ تعلقات میں گرم جوشی میں کچھ کمی ہوئی ہے۔

حال ہی میں امریکہ نے پاکستان کے لیے اتحادی اعانتی فنڈ کی مد میں دی جانے والی 30 کروڑ ڈالر کی امدادی رقم روک دی تھی جب کہ رواں سال کے اوائل میں امریکہ کی طرف سے پاکستان کو آٹھ ایف 16 لڑاکا طیاروں کی فروخت کی مد میں کروڑوں ڈالر کی زر اعانت بھی نا دینے جیسے معاملات کے باعث دونوں ملکوں کے تعلقات میں تلخی کا سبب بنے۔

لیکن سرکاری طور پاکستان کی طرف سے یہ ہی کہا جاتا رہا ہے کہ اسلام آباد، واشنگٹن سے اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور دوطرفہ روابط کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔

XS
SM
MD
LG