رسائی کے لنکس

فرقہ وارانہ تشدد: حیدرآباد دکن میں نیم فوجی دستوں کی تعیناتی

  • رشید الدین

فرقہ وارانہ تشدد: حیدرآباد دکن میں نیم فوجی دستوں کی تعیناتی

فرقہ وارانہ تشدد: حیدرآباد دکن میں نیم فوجی دستوں کی تعیناتی

گذشتہ دو دِنوں سے حیدرآباددکن کے مختلف علاقے فرقہ وارانہ تشدد کی لپیٹ میں ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، فرقہ وارانہ تشدد سے نمٹنے کے لیےوفاقی حکومت نے سینٹرل فورسز کی 10کمپنیاں تعینات کی ہیں جو کہ نیم فوجی دستوں کے 1000اہل کاروں پر مشتمل ہیں۔

اتوار کی رات ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جھڑپیں جاری رہیں اور ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کو کئی مقامات پر فائرنگ کرنا پڑی۔

فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پر صوبائی اسمبلی میں بھی کافی ہنگامہ ہوا اور مسلمان ارکانِ اسمبلی نے احتجاج کرتے ہوئے کارروائی کو روک دیا۔ وزیرِ اعلیٰ نے صوبائی اسمبلی کو بتایا کہ صورتِ حال کشیدہ ہے۔

ہفتے کی رات پیدا ہونے والی فرقہ وارانہ کشیدگی نے دوسرے روزتشدد کا رُخ اختیار کر لیا۔ دوکانوں اور مکانات پر حملے کیے گئے اور مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔

پیر کے دِن بھی بعض علاقوں میں تشدد کے تازہ واقعات پیش آئے۔ ایک مقام پر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے فائرنگ کردی۔ بتایا جاتا ہے کہ حملے کے اِس واقع میں درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔

XS
SM
MD
LG