رسائی کے لنکس

کرزئی کا دورہٴبھارت: فوجی تعاون میں اضافے کا سمجھوتا

  • سہیل انجم
  • نئی دہلی

حامد کرزئی اور پرنب مکھرجی

حامد کرزئی اور پرنب مکھرجی

بھارت اداروں کی تعمیر اور عملے کی تربیت کے سلسلے میں باہمی تعاون بڑھانے پر تیار ہے اور اس عبوری دور میں وہ افغان عوام کے ساتھ ہے: پرنب مکھرجی

افغان صدر حامد کرزئی نے نئی دہلی کے اپنے دورے میں صدر پرنب مکھرجی اور وزیر اعظم من موہن سنگھ سے ملاقات کی اور فوجی تعاون بڑھانے کی اپیل کی۔

آئندہ سال سے بین الاقوامی افواج کے مکمل انخلا کے بعد ملکی سلامتی کی ذمہ داری افغان فورسز پر عائد ہو جائے گی۔ حامد کرزئی کو امید ہے کہ بھارت سے مزید فوجی امداد مل سکتی ہے۔

اُنھوں نے وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران اس پر تفصیل سے روشنی ڈالی کہ اُنھیں بھارت سے کن کن شعبوں میں مدد درکار ہے۔

وہ بھارت کے ساتھ دفاعی تعاون میں اضافہ اور مہلک اور غیر مہلک ہتھیاروں کی سپلائی بھی چاہتے ہیں۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق اُنھوں نے بھارتی راہنماؤں سے ملاقات کے دوران یہ واضح کردیا کہ افغان قیام امن کے لیے بھارتی افواج کی موجودگی اپنے یہاں نہیں چاہتا۔ تاہم، اُنھوں نے نئی دہلی سے کہا کہ وہ بھارت ہی میں افغان پولیس اور فوج کی تربیت دینا جاری رکھے۔

اِس کے ساتھ ہی، اُنھوں نے کابل میں جلد ہی تیار ہونے والی ملٹری اکیڈمی میں افغان افواج کو تربیت دینے کے لیے بھارتی افسران کو مدعو بھی کیا۔

بھارت نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ مختلف شعبوں میں افغانستان کی مدد کرنے کے اپنے عہد پر قائم ہے۔

صدر پرنب مکھرجی کے دفتر سے جاری ایک بیان کے مطابق، اُنھوں نے کہا ہے کہ بھارت افغانستان کی تعمیرِ نو اور افواج کی تربیت میں اُس کے ساتھ کھڑا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ افغانستان کی مدد کرنا بھارت کے لیے فخر کی بات ہے۔

اُن کے بقول، بھارت اداروں کی تعمیر اور عملے کی تربیت کے سلسلے میں باہمی تعاون بڑھانے پر تیار ہے اور اس عبوری دور میں وہ افغان عوام کے ساتھ ہے۔
XS
SM
MD
LG