رسائی کے لنکس

بھارت میں سبسڈی کی مد میں دی جانے والی رقم کا نیا نظام


بھارت میں خوراک اور ایندھن کے لیے امدادکے طور پر دی جانے والی رقم زیادہ تر بدعنوان عہدیداروں کے پاس چلی جاتی ہے۔ یا عوام کو رشوت دینے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔

بھارتی حکومت نے حال ہی میں ایک ایسا نیا نظام شروع کیا ہے جس کے نتیجے میں عوام کو دی جانے والی رقم کی شفاف منتقلی کو ممکن بنایا جا سکے گا۔ اس نظام کے تحت انہیں نقد رقم دی جائے گی۔ بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نئے نظام سے بھارت کے لاکھوں غریب شہری فائدہ اٹھا سکیں گے۔

سال ِ نو کے آغاز سے بھارت کے بیس ضلعوں میں تقریبا 2 لاکھ 45 ہزار افراد کی پنشن یا سکالر شپ کی رقم براہ ِ راست ان کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جا رہی ہے۔ جس کی وجہ سے ان افراد کے لیے پوسٹ آفس یا بینکوں میں جا کر رقم وصول کرنے کے لیے انتظار کرنے کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے۔

عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جب بینک اکاؤنٹس میں رقم منتقل کرنے کا سلسلہ مکمل طور پر نافذ ہو جائے گا تو نقد دینے سے اس امدادی رقم یا سبسڈی دینے کا نظام درست کرنے میں بھی مدد ملے گی جو اس وقت سالانہ اٹھاون ارب ڈالر ہے۔

بھارت میں غربت ختم کرنے کے لیے کیے جانے والے ایسے اقدامات کے بارے میں بہت عرصے سے سوالات کیے جا رہے ہیں۔ کیونکہ بھارت میں خوراک اور ایندھن کے لیے امدادکے طور پر دی جانے والی رقم زیادہ تر بدعنوان عہدیداروں کے پاس چلی جاتی ہے۔ یا عوام کو رشوت دینے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔

بھارت کے وزیر ِ خزانہ پی چدم برم کا کہنا ہے کہ نقد رقم کی شکل میں منتقلی کی یہ نئی سکیم غریب عوام کے لیے صورتحال بدل دے گی۔ وہ کہتے ہیں، ’’اس نئے نظام میں کوئی سقم نہیں ہے۔امداد وصول کرنے والے کسی شخص کو اپنی رقم حاصل کرنے کے لیے کسی قسم کی رشوت نہیں دینا پڑے گی‘‘۔

برازیل اور میکسیکو جیسے ممالک میں اس طرز کے تجربات کامیاب رہے ہیں۔ اور بھارت نے انہی تجربات کی روشنی میں یہ سلسلہ شروع کیا ہے۔بھارت کو توقع ہے کہ مستقبل میں وہ شہریوں کو biometric electronic نمبر دے سکیں گے جس سے وہ رقم اپنے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کر سکیں گے۔

لیکن اس بارے میں شک و شبہ ہے کہ ایک ارب بیس کروڑ آبادی والے اس ملک میں یہ نیا نظام کیسے کام کر سکے گا؟ بھارت کی صرف چالیس فیصد آبادی کے پاس بینک اکاؤنٹس ہیں اور بھارت کے چھ لاکھ دیہاتوں میں سے صرف چھتیس ہزار دیہاتوں میں بینک موجود ہیں۔

بہت سے لوگ بینک میں اکاؤنٹ ہونے کے باوجود بھی نقد رقم کی بجائے راشن لینے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ انہی میں سے ایک ہیں کانتا داس، جو دہلی کی ایک غریب بستی میں رہتی ہیں اور راشن لینے کی بجائے نقد رقم لینے والے تحقیقی پروگرام کا حصہ تھیں۔ کانتا کہتی ہیں ، ’’ میرا خاندان نقد رقم کی بجائے راشن لینا چاہتا ہے۔ کیونکہ گھر کے افراد یہ رقم دوسری چیزوں کے لیے استعمال کر لیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے میرے چھوٹے بچوں کو کھانے کے لیے کم ملتا ہے‘‘۔

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس ضمن میں محتاط انداز میں کام کر رہی ہے۔ اور وقتی طور پر خوراک اور ایندھن کی سبسڈی کے لیے وہ نقد رقم کی منتقلی والا نیا سسٹم اختیار نہیں کر رہی۔

بھارت کے وزیر ِ خرانہ چدم برم کو امید ہے کہ نقد رقم کی منتقلی والی سکیم سے حکومت کے اربوں روپے بچ سکیں گے۔ وہ کہتے ہیں، ’’ اس نئی سکیم میں کوئی ایک شخص دو مختلف شناختی کارڈ استعمال کرکے دو افراد کے پیسے نہیں وصول کر سکے گا۔ لوگ شناخت کو بدل کر فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔ جس سے قومی خزانے کو فائدہ پہنچے گا۔ موجودہ نظام بہت پیچیدہ ہے‘‘۔

اپوزیشن پارٹیز نے اس نئی سکیم کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ اگلے سال ہونے والے انتخابات سے پہلے ووٹ حاصل کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سال کے آخر تک وہ ملک کے بیشتر حصوں میں اس نئی پالیسی کا نفاذ کر دے گی۔

اس بارے میں مزید جانئیے مدیحہ انور کی اس آڈیو رپورٹ میں۔

XS
SM
MD
LG