رسائی کے لنکس

اروم شرمیلا کا اپنی 16 سالہ بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان


فائل فوٹو

فائل فوٹو

شرمیلا نے انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کا واحد مقصد اس قانون کا خاتمہ ہے جو فوج کو اپنی کارروائیوں پر استثنیٰ دیتا ہے۔

بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور میں انسانی حقوق کی کارکن اروم شرمیلا نے اپنی تقریباً 16 سالہ بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آئندہ سال ریاستی انتخابات میں حصہ لیں گی۔

44 سالہ شرمیلا نے تنازع والے علاقوں میں انسانی حقوق کو معطل کرنے والے ایک بھارتی قانون کے خلاف پانچ نومبر 2000ء کو بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔

منگل کو انھوں نے ایک عدالت کو بتایا کہ وہ نو اگست کو اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دیں گی۔ وہ بھارتی فوج کی مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سراپا احتجاج رہی ہیں۔

گزشتہ ہفتے ہی منی پور کے علاقے مالوم میں بھارتی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں دس شہری مارے گئے تھے۔

شرمیلا کو اپنی بھوک ہڑتال شروع کرنے کے تین روز بعد ہی خودکشی کی کوشش کے الزام گرفتار کر لیا گیا تھا اور انھیں ایک سرکاری اسپتال کے کمرے کو جیل کا درجہ دے کر وہاں رکھا گیا اور ایک ٹیوب کے ذریعے انھیں زبردستی ناک کے راستے خوراک دی جاتی رہی۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایک بیان کے مطابق منگل کو عدالت کے باہر شرمیلا نے صحافیوں کو بتایا کہ "تبدیلی لانے کا واحد راستہ انتخابی عمل ہے، میں مالوم کے حلقے سے ایک آزاد امیدوار کے طور پر (انتخاب میں) حصہ لوں گی۔"

ان کے بقول ان کا واحد مقصد اس قانون کا خاتمہ کے جو فوج کو اپنی کارروائیوں پر استثنیٰ دیتا ہے۔

بھارت کی مسلح افواج کو ایک ایکٹ کے تحت بھارتی کشمیر اور شمال مشرقی ریاستوں میں علیحدگی پسندوں کے خلاف خصوصی اختیارات حاصل ہیں جن کے تحت وہ کسی بھی مشتبہ باغی کو گولی مار سکتے ہیں بغیر کسی وارنٹ کے مشتبہ شخص کو گرفتار کر سکتے ہیں۔

اسی ایکٹ کے تحت پولیس کو تلاشی اور قبضے کے وسیع اختیارات بھی حاصل ہیں۔

شرمیلا کا زیادہ وقت اسپتال میں قید ہی گزرا جہاں ڈاکٹر اس بات کو یقینی بناتے رہے کہ ان کی حالت ٹھیک رہے۔ انھیں ہر 15 روز بعد مقامی پولیس اسٹیشن میں حاضری بھی دینا ہوتی تھی۔

ان کی اس جدوجہد نے انھیں بین الاقوامی طور پر پہچان دلائی اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انھیں "ضمیر کی قیدی" قرار دیا۔

XS
SM
MD
LG