رسائی کے لنکس

گورو اور مقبول بٹ کی باقیات لوٹائی جائیں: عمر عبداللہ

  • یوسف جمیل
  • سری نگر

فائل

فائل

ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے وزیر اعظم کے ساتھ اپنی ایک حالیہ ملاقات کے دوران بھی کہا تھا کہ افضل گورو کو پھانسی دینے سے پہلے اُن کی اہلیہ اور نوعمر لڑکے سے آخری ملاقات نہ کرانے پر لوگ، اُن کے بقول، بے حد خفا ہیں

بھارتی زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وزیر اعظم من موہن سنگھ کے نام ایک مراسلے میں مطالبہ کیا ہے کہ محمد افضل گورو اور محمد مقبول بٹ کی باقیات کو لوٹایا جائے، تاکہ اُنھیں اُن کے آبائی وطن کشمیرمیں سپردِ خاک کیا جاسکے۔

افضل گورو کو، جن پر 2001ء میں بھارتی پارلیمان پر ہونے والے حملے میں ملوث ہونے کا الزام تھا، نو فروری کو دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی اور وہیں دفن کیا گیا، جب کہ کشمیری قوم پرست لیڈر اور جموں و کشمیر میں نیشنل لبریشن فرنٹ کے ایک بانی محمد مقبول بٹ کو 29سال قبل یعنی 11فروری 1984ء کو اِسی جیل میں تختِ دار پر لٹکایا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ سری نگر کے شہیدوں کے قبرستان میں دونوں کے لیے قبریں تیار رکھی گئی ہیں اور اُن پر لوح مزار بھی نصب کی گئی ہیں۔

جموں میں سرکاری طور پر اس امر کی تصدیق کی گئی ہے کہ صوبائی وزیر اعلیٰ نے عوامی جذبات کے پیشِ نظر بھارتی وزیراعظم کو باضابطہ خط لکھا ہےجِس میں مقبول بٹ اور افضل گورو کی باقیات کو لوٹانے کے لیے کہا گیا ہے۔

ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ عمرعبد اللہ نے وزیر اعظم کے ساتھ اپنی ایک حالیہ ملاقات کے دوران بھی یہ مطالبہ دہرایااور اُن سے یہ بھی کہا کہ افضل گورو کو پھانسی دینے سے پہلے اُن کی اہلیہ اور نوعمر لڑکے سے آخری ملاقات نہ کرانے پر لوگ بے حد خفا ہیں اور اُن کے جذبات اس لیے بھی مجروح ہیں کہ بھارتی صدر کی طرف سے رحم کی درخواست مسترد کیے جانے کے بعد افضل گورو کو اپنے کیس پر نظرثانی کرانے کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا قانونی موقع فراہم نہیں کیا گیا۔

وزیر اعلیٰ نے وزیراعظم کو بتایا کہ اب حکومت کم سے کم اتنا تو کرے کہ اُن کے جسد خاکی کو اُن کے اہلِ خانہ کو لوٹایا جائے اور اِسی طرح مقبول بٹ کی باقیات کے سلسلےمیں پیدا شدہ قضیے کو بھی اُنھیں لوٹا کر ختم کیا جائے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG