رسائی کے لنکس

بھارت: ارون دھتی رائے نے بھی اپنا ایوارڈ واپس کر دیا


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ارون دھتی کا کہنا تھا کہ "دوسرے انسانوں کو جلانے، گولی مارنے اور ان کے اجتماعی قتل کے لیے عدم برادشت کا لفظ استعمال کرنا غلط ہے"۔

بھارت میں ہندو انتہا پسندوں کی کارروائیوں کے خلاف مختلف سماجی حلقوں کی طرف سے تنقید اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور اب معروف مصنفہ اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن ارون دھتی رائے نے بھی 1989ء میں ملنے والا قومی ایوارڈ واپس کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس سے قبل متعدد اہم ادبی اور سماجی شخصیات اپنے ایوارڈز واپس کرنے کا اعلان کر چکی ہیں۔

اپنے ایک وضاحتی بیان میں ارون دھتی رائے نے کہا کہ وہ یہ بتانا چاہتی ہیں کہ وہ یہ ایوارڈ اس لیے واپس نہیں کررہیں کہ وہ بھارت میں "بڑھتی ہوئی عدم براداشت" پر "حیران" ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت اس غیر سماجی رویے کی سرپرستی کررہی ہے۔ "دوسرے انسانوں کو جلانے، گولی مارنے اور ان کے اجتماعی قتل کے لیے عدم برادشت کا لفظ استعمال کرنا غلط ہے"۔

رائے نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران بھارت میں پیش آنے والے تشدد اور عدم برداشت کے واقعات پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لاکھو کی تعداد میں انسانوں کے لیے زندگی مشکل ہو گئی ہے۔ دلت، آدیواسی، مسلمان اور مسیحی برادری کے افراد اپنے تحفظ سے متعلق بے یقینی کا شکار ہیں۔

جمعرات کو متعدد فلم سازوں اور پیشکاروں نے بھی بھارت میں عدم برادشت کے خلاف اپنے سرکاری اعزازات اور ایوارڈ واپس کرنے کا اعلان کیا۔

رائے نے کہا کہ فن کاروں اور دانشوروں کی اس "سیاسی تحریک کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی ہے اور نہ تاریخ میں پہلے کھبی اس طرح ہوا ہے"۔

بھارت میں حالیہ دنوں میں گائے کے گوشت کا معاملہ بظاہر ہندو اور مسلمانوں کے درمیان بڑھتی ہوئی عدم برداشت کی وجہ بنا ہے اور اس نے وزیراعظم نریندر مودی کو یہ اپیل کرنے پر مجبور کیا کہ ملک میں آباد مختلف مذاہب کے ماننے والے اتفاق و اتحاد پیدا کریں۔

تاہم عام وزیراعظم کو حزب مخالف کی جماعت کانگریس سمیت مختلف سیاسی و سماجی حلقے انتہا پسندوں کے خلاف ٹھوس کارروائی نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

ہندو مذہب کے پیروکار گائے کو مقدس مانتے ہیں اس بنا پر ان کے لیے اسے ذبح کرنا یا اس کا گوشت کھانا صریحاً ممنوع ہے۔

XS
SM
MD
LG