رسائی کے لنکس

بھارتی افسر شاہی ایشیا بھر میں بد ترین قرار


Taj Mahal, New Delhi

Taj Mahal, New Delhi

رپورٹ کے مطابق سنگاپور کے بعد ایشیائی ممالک میں ہانگ کانگ (53ء3) کی افسر شاہی کارکردگی کے حساب سے دوسرے نمبر پر ہے جب کہ تھائی لینڈ (25ء5)، تائیوان (57ء5)، جاپان (77ء5)، جنوبی کوریا (87ء5) اور ملائیشیا (89ء5) کی بیوروکریسی کی کارکردگی بھی تسلی بخش قرار دی گئی ہے

ہانگ کانگ کے ایک ادارے نےاپنی تحقیقاتی رپورٹ میں بھارت کی افسر شاہی کو براعظم ایشیا میں بدترین قرار دیا ہے۔

'پولیٹکل اینڈ اکانومک رِسک کنسلٹنسی لمیٹڈ' نامی معروف مشاورتی ادارے کی جانب سے مرتب کردہ رپورٹ میں سنگاپور کی بیوروکریسی ایشیا بھر میں بہترین قرار پائی ہے۔

ادارے کے مطابق اس نے ایشیا کے گیارہ بڑے معاشی ممالک کی افسر شاہی کی کارکردگی کا تعین مفصل جائزوں اور متنوع پیمانوں کی بنیاد پر کیا ہے جس میں ان کی کارکردگی کو 10 کے اسکیل پر ناپا گیا۔

جائزے میں سنگاپور کی بیوروکریسی 25ء2 کی ریٹنگ کی ساتھ ایشیا بھر میں بہترین جب کہ بھارت کی 21ء9 کے ساتھ بدترین قرار پائی۔

رپورٹ کے مطابق سنگاپور کے بعد ایشیائی ممالک میں ہانگ کانگ (53ء3) کی افسر شاہی کارکردگی کے حساب سے دوسرے نمبر پر ہے جب کہ تھائی لینڈ (25ء5)، تائیوان (57ء5)، جاپان (77ء5)، جنوبی کوریا (87ء5) اور ملائیشیا (89ء5) کی بیوروکریسی کی کارکردگی بھی تسلی بخش قرار دی گئی ہے۔

فہرست میں چین 11ء7 کے ساتھ ساتویں، فلپائن 57ء7 کے ساتھ آٹھویں جب کہ انڈونیشیا 37ء8 کے ساتھ نویں نمبر پر ہے۔ ویتنام کی افسر شاہی 10 کے اسکیل پر 54ء8 کی رینکنگ کےساتھ 10ویں نمبر پر رہی۔

یاد رہے کہ سنگاپور دنیا بھر میں کاروبار کے لیے موزوں ترین ممالک میں بھی سرِ فہرست ہے۔مذکورہ رپورٹ میں پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا شامل نہیں ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کاروباری شخصیات کی بھارت کے حوالے سے بیشتر شکایات کی زیادہ تر ذمہ داری وہاں کی بیوروکریسی پر عائد ہوتی ہے جن میں غیرموزوں انفراسٹرکچر اور بدعنوانی کی شکایات بھی شامل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں محصولات کا غیر مستقل نظام، ماحولیاتی اور دیگرقوانین کے باعث بھارت میں کاروبار کرنا "پریشان کن اور مہنگا" ہوگیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی افسر شاہی رشوت وصول کرنے پر آمادہ رہتی ہے اور کاروباری اداروں کو سرکاری رکاوٹوں سے بچنے اور حکومتی حمایت کے حصول کے لیے یہ راستہ اپنانا پڑتا ہے۔

رپورٹ کا کہنا ہے کہ بھارت میں کاروبار کرنے والے اداروں کے لیے عدالتوں سے رجوع کرنا بھی ایک غیر پرکشش راستہ رہا ہے جس سے کمپنیاں بچنے کی کوشش کرتی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں افسران کے غلط فیصلوں پر ان کے احتساب کی روایت موجود نہیں اور کسی معاملے پر اختلافِ رائے کی صورت میں عام افراد کے لیے انہیں چیلنج کرنا بھی انتہائی دشوار ہے جس کے باعث انہیں بے انتہا اختیارات حاصل ہوگئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG