رسائی کے لنکس

بھارتی صنعت کار کی نواز شریف سے ملاقات، حکومت سے وضاحت طلب


وزیر اعظم نواز شریف (فائل فوٹو)

بھارت کے معروف صنعت کار سجن جندل کی وزیر اعظم نواز شریف سے رواں ہفتہ پاکستان میں ہونے والی ملاقات کے بعد مقامی ذرائع ابلاغ اور سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی پاکستان سے بات چیت شروع کرنے کے لیے غیر رسمی رابطوں کو استعمال کر رہے ہیں۔

پاکستان کی حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے قانون سازوں کی طرف سے اس معاملے پر حکومت سے وضاحت طلب کرنے کے لیے پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں تحاریک التوا بھی جمع کروائی گئی ہیں۔

پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن کی طرف وزیر اعظم نواز شریف اور سجن جندل کے درمیان "خفیہ ملاقات" کے معاملے پر سینیٹ میں تحریک التوا جمع کروائی گئی جب کہ تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی مراد سعید نے ایسی ہی ایک تحریک التوا قومی اسمبلی میں جمع کروائی۔

شیری رحمٰن نے تحریک التوا میں موقف اختیار کیا کہ "پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں ایسی اطلاعات سامنے آئیں ہیں کہ وزیر اعطم نواز شریف نے بھارتی صنعت کار سجن جندل سے غیر رسمی ملاقات کی جو بھارتی وزیر اعظم کی طرف سے کسی غیر رسمی سفارتی مشن پر پاکستان آئے تھے۔"

واضح رہے کہ دسمبر 2015ء میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کابل سے واپسی پر لاہور کے اچانک دورے میں وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کی تھی۔

وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز نے ٹوئٹر بیان میں کہا کہ "مسٹر جندل وزیر اعظم نواز شریف کے پرانے دوست ہیں۔ اس ملاقات میں کچھ بھی 'خفیہ' نہیں تھا، اس لیے اسے سیاق و سباق سے ہٹ کر نہیں دیکھا جانا چاہیئے۔"

تاہم بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ ملکوں کے درمیان غیر رسمی رابطے ایک عام بات ہوتی ہے۔

پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد کا کہنا ہے کہ اگر اس ملاقات کے بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں تو اس کی وجہ پاکستان اور بھارت کے موجودہ تعلقات ہیں۔

"جس قسم کا ماحول ہے دونوں ملکوں کےدرمیان تو اس قسم کے خیر سگالی کے دورے ہوتے ہیں لوگ اس کو بہت اہمیت دیں گے اور یہی توقع کریں گے کہ ان کے بارے میں اعتماد میں لیا جائے اگر اس قسم کے دوروں کو خفیہ رکھا جائے گا تو ہر قسم کے سوالات اٹھیں گے۔"

صوبہ پنجاب کے وزیر قانون اور حکمران جماعت مسلم لیگ کے ایک راہنما رانا ثنااللہ نے نامہ نگاروں سے گفتگو میں کہا یہ سجن جندل کا ایک نجی دورہ تھا۔

"یہ ان کا ایک ذاتی دورہ تھا اور اس میں کوئی سرکاری یا کسی قسم کی بیک ڈور ڈپلومیسی نہیں ہوئی۔۔۔ لیکن بہر حال اگر کوئی پاکستان کا شہری ہو یا وہ ہندوستان کا شہری ہو۔۔۔ اگر وہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری لانے کی پوزیشن میں ہو اور اگر وہ کوئی ایسا کام کرے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک مثبت پیش رفت ہو گی۔"

پاکستان اور بھارت کے درمیان گزشتہ ایک سال سے تعلقات انتہائی کشیدہ رہے ہیں جن کے اثرات معمول کے سفارتی تعلقات پر بھی پڑتے ہیں شمشاد احمد کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان ایسے غیر رسمی رابطے تعلقات کو بہتر کرنے میں معاون ہو سکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG