رسائی کے لنکس

بھارتی کابینہ میں رد و بدل

  • واشنگٹن

بھارتی کابینہ کے نئے وزیر

بھارتی کابینہ کے نئے وزیر

من موہن سنگھ پُرامید ہیں کہ نئی کابینہ حکومت کے نظام میں نئی جان ڈال دے گی، جس کی ایک تہائی 35برس سے کم عمر ارکان پر مشتمل ہے اور ایسے ناقدین کو دیوار سے لگانے میں مدد ملے گی جو اُن کی سبک دوش ہونے والی تجربہ کار کابینہ پر عوام کی نبض سے ناآشنائی کا الزام لگایا کرتے تھے

اپنی حکومت کی ساکھ بہتر بنانے کی غرض سے بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے اپنی کابینہ میں ردو بدل کیا ہے، جسے بدعنوانی کے اسکینڈلوں کا سامنا اور خراب عمل داری کی شکایات درپیش رہی ہیں۔

تاہم، کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی کے بیٹےراہول گاندھی کو نئی کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا، جِن کے بارے میں عام تاثر ہے کہ وہ مستقبل کے وزیر اعظم ہیں۔

کابینہ میں لائی گئی تبدیلیوں میں سات رکنی سینئر وزرا اور 15جونیئر وزرا شامل ہیں۔ اتوار کے روز پیٹرول اور وزارت ِخارجہ کے اہم قلمدان میں تبدیلی لائی گئی تھی۔

اب تک وزیر قانون رہنے والےسلمان خورشید کو وزیر ِخارجہ کا قلمدان سونپا گیا ہے، جو ایک اہم تعیناتی خیال کی جارہی ہے۔

وزیر اعظم کے دفتر سے ٹوئیٹ کیے گئے ایک پیغام میں کہا گیا ہے کہ آئندہ کئی چیلنج درپیش آسکتے ہیں۔ لیکن، یہ ایک ایسی ٹیم ہے، جو اُن کے بقول، اِن چیلنجوں کا خاطر خواہ سامنا کرسکے گی۔

کانگریس کی قیادت والے اِس اتحاد کی مقبولیت کو کمی کا سامناہے۔ اتحاد 2014ء میں ہونے والے انتخابات میں تیسری مدت کے لیے کامیابی کا خواہش مند ہے، تاہم من ہومن سنگھ کی حکومت عوامی اعتماد کھوتی جارہی ہے۔

نئی دہلی کے آزادانہ سوچ کے مالک ایک سیاسی تجزیہ کار، پرانجوائے گوہا ٹھکرتا کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسی حکومت ہے جس کی ساکھ کو دھچکا لگ چکا ہے، کیونکہ اُس پر نہ صرف بدعنوانی کے الزام لگے ہیں، بلکہ وہ غذائی اشیاٴ کی آسمان سے باتیں کرتی ہوئی قیمتوں میں کمی لانے میں بھی بری طرح ناکام رہی ہے۔

وزیر اعظم پُر امید ہیں کہ کابینہ میں متعارف کیے گئے نئے چہرےبدعنوانی کے الزامات کا مداوا کرنے اور پالیسی کے غلط خطوط پر گامزن ہونے سے روکنے میں معاون ثابت ہوں گے۔

اُنھوں نے نئی کابینہ کو نوجوان نسل کی نمائندہ اور تجربے کا نچوڑ قرار دیا۔

تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ نئی تعناتیوں کے ذریعے من موہن سنگھ بدعنوانی کے بارے میں عوامی تشویش کا مداوا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، ملک کے نئے وزیر خارجہ کے خاندان کی طرف سے چلائی جانے والی ایک رفاعی تنظیم کو رشوت ستانی کے الزامات کا سامنا ہے۔

من موہن سنگھ پُر امید ہیں کہ نئی ٹیم حکومت کے نظام میں نئی جان ڈال دے گی ، جس کی ایک تہائی 35برس سے کم عمرارکان پر مشتمل ہے اور ایسے ناقدین کو دیوار سے لگانے میں مدد ملے گی جو اُن کی سبک دوش ہونے والی تجربہ کار کابینہ پر عوام کی نبض سے ناآشنائی کا الزام لگایا کرتے تھے۔
XS
SM
MD
LG