رسائی کے لنکس

نئی دہلی میں فضائی آلودگی میں کمی کے منصوبے کا آغاز


نئی دہلی کا ایک منظر (فائل فوٹو)

نئی دہلی کا ایک منظر (فائل فوٹو)

عالمی ادارہ صحت نے گزشتہ سال دہلی کو دنیا کا آلودہ ترین شہر قرار دیا تھا۔ یہ آلودگی موسم سرما میں انتہا تک ہوتی ہے جس میں خاص طور پر صبح کے اوقات میں آسمان دھند اور دھوئیں کی دبیز تہہ سے چھپا رہتا ہے۔

بھارت نے اپنے دارالحکومت نئی دہلی میں فضائی آلودگی کی ریکارڈ بلند سطح کو کم کرنے کے لیے جمعے سے ایک منصوبے کا آغاز کیا ہے جس میں نجی گاڑیوں کی شہر کی سڑکوں پر آمد و رفت کو ایک ترتیب کے تحت چلایا جائے گا۔

یکم سے 15 جنوری کے لیے اس منصوبے میں ایک روز طاق نمبر پلیٹ والی ںجی گاڑیاں سڑکوں پر لائی جا سکیں گی جب کہ اگلے روز جفت نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کو آمدو رفت کی اجازت ہو گی۔

جمعہ کو شہر میں لوگوں کی طرف سے اس منصوبے پر عملدرآمد ہوتا نظر تو آیا لیکن اسکول اور دیگر تعلیمی اداروں کے علاوہ دفاتر کے بند ہونے کی وجہ سے ٹریفک ویسے ہی معمول سے کم ہے جس سے اس منصوبے سے مطلوبہ نتائج کے حصول بارے کچھ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا۔

شہری حکومت نے گزشتہ ہفتے اس منصوبے میں بعض لوگوں کے استثنیٰ کا اعلان بھی کیا تھا جن میں اعلیٰ سیاسی شخصیات، جج صاحبان، پولیس، محکمہ جیل خانہ جات کے حکام، خواتین، مریض اور دو پہیوں والی سواری یعنی موٹر سائیکل اور اسکوٹر شامل ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے گزشتہ سال دہلی کو دنیا کا آلودہ ترین شہر قرار دیا تھا۔ یہ آلودگی موسم سرما میں انتہا تک ہوتی ہے جس میں خاص طور پر صبح کے اوقات میں آسمان دھند اور دھوئیں کی دبیز تہہ سے چھپا رہتا ہے۔

دہلی میں 75 لاکھ رجسٹرڈ گاڑیاں ہیں جن میں اکثریت فضائی آلودگی کا باعث بننے والے ڈیزل کو بطور ایندھن استعمال کرتی ہیں۔ گاڑیوں کے علاوہ شہر میں جاری تعمیراتی منصوبوں اور دیگر متعدد عوامل بھی آلودگی میں قابل ذکر اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔

فضا میں آلودگی کی قابل برداشت شرح 2.5 پی ایم مائیکرو میٹر ہوتی ہے لیکن جمعہ کو نئی دہلی میں یہ شرح 297 ہے۔

گزشتہ ماہ کے اوائل میں ہی سپریم کورٹ نے شہر میں ایسے ٹرکوں کا داخلہ بند کرنے کا حکم دیا تھا جو دس سال سے زائد پرانے ہوں یا پھر وہ ویسے ہی اس شہر کو گزرگاہ کے طور پر استعمال کر رہے ہوں۔

XS
SM
MD
LG