رسائی کے لنکس

اخبار، ٹی وی، رسائل و جرائد ۔۔۔مارکیٹ، پارک اور دیگر عوامی مقامات پر لوگ ایک ہی بات کرتے نظر آتے ہیں اور وہ ہے پاکستان ڈرامہ سیریلز۔ کچھ فلمی اور ٹی وی حلقوں نے تو کھلے عام اپنے سیریلز کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا ہے

بھارت میں پاکستانی ڈراموں کو ٹی وی سے پیش کئے جانے کا سلسلہ صرف ایک، دو ماہ ہی پرانا ہے، لیکن اس قلیل مدت میں پاکستانی ڈرامہ سیریلز نے اس قدر ہلچل مچا دی ہے کہ عام ناظرین گویا ان ڈراموں کے دیوانے ہوگئے ہیں، جبکہ بھارتی میڈیا کمپنیز کے درمیان منہ مانگی قیمتوں پر پاکستانی ڈراموں کو خریدنے کی دوڑ لگ گئی ہے۔

اخبار، ٹی وی، رسائل و جرائد ۔۔۔مارکیٹ، پارک اور دیگر عوامی مقامات پر لوگ ایک ہی بات کرتے نظر آتے ہیں اور وہ ہے پاکستان ڈرامہ سیریلز۔ کچھ فلمی اور ٹی وی حلقوں نے تو کھلے عام اپنے سیریلز کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا ہے تو کچھ کا خیال ہے کہ پاکستانی سیریلز بھارت کے رٹے پٹے ساس بہو کے ڈراموں کے لئے سنجیدہ خطرہ ہیں۔

اس ماہ جس سیریل نے کامیابی کے وہاں ٹنکے پیٹے ہیں وہ ہے ۔۔’زندگی گلزار ہے‘ ۔ زی کے نئے چینل ’زی زندگی‘ سے اس کی ہر روز ایک قسط پیش کی گئی؛ یوں محض 26دنوں میں ’زندگی گلزار ہے‘ نے بھارت بھر میں وہ دھوم مچادی جو شاہد تاریخ کا حصہ بن جائے۔

اسٹار ٹی وی نیٹ ورکس نے اس حوالے سے کئی رپورٹس پیش کی ہیں جن میں عوامی رائے بھی لی گئی ہے۔

سب سے اچھے سیریل سے متعلق سوال پر اکثر ناظرین نے ’زندگی گلزار ہے‘ کا نام لیا۔ ایک خاتون نے کہا کہ اس کا کونسپٹ بہت فریش ہے۔یہ ایک ایسا سیریل ہے جس نے سب کے دلوں کو چھو لیا۔ ایک نوعمر لڑکی نے تو جذباتی انداز میں یہ تک کہہ دیا کہ ’میں پاکستان جا کر ان کے سیریل کا حصہ بننا چاہتی ہوں‘۔

’زندگی گلزار ہے‘ پاکستانی ٹی وی چینل ’ہم‘ سے پیش کیا گیا تھاجو ہٹ اور سپر ہٹ رہا۔ اب بھارت میں اسے پاکستان سے بھی زیادہ سراہا جا رہا ہے۔

عام ناظرین کے ساتھ ساتھ بھارتی اداکار بھی ’زندگی گلزار ہے‘ کو سراہے بغیر نہ رہ سکے۔ ٹی وی ایکٹریس کامیہ کا کہنا ہے کہ ’زندگی گلزار ہے‘ بھارتی ٹی چینلز انتظامیہ کی سوچ میں تبدیلی لائے گا۔

ڈائریکٹر کونال کوہلی کا کہنا ہے کہ ’پاکستانی سیریلز ایک نئی تازگی کا احساس دلاتے ہیں‘۔

فلم اور ٹی وی کے مشہور ایکٹر جاوید جعفری کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیریلز زی زندگی کو سب سے آگے لیجانے میں کامیاب ہیں، میں تین سیریلز دیکھ چکا ہوں۔۔۔اب تو لگتا ہے یہ باقی چینل کے لئے خطرہ ثابت ہوگا۔

اے بی پی نیوز چینل کی ایک اور رپورٹ میں پاکستانی سیریلز کے بارے میں کہا گیا ہے کہ بھارتی سیریلز ٹی وی چینلز پر بھرے پڑے ہیں۔ لیکن، ان کے باوجود ’زندگی گلزار ہے‘ کی کامیابی ثابت کرتی ہے کہ ’ڈرامہ ان سب سے ہٹ کر ہے ، اس کے کردار سب سے الگ اور جیتے جاگتے محسوس ہوتے ہیں، مکالمے نہایت جان دار ہیں ۔‘

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’کانٹینٹ کے علاوہ اس کے ایکٹرز بھی کامیابی کی بہت بڑی وجہ ہیں۔ سیریل میں لیڈنگ رول کرنے والے فواد خان اور صنم سعید پاکستان کے بے حد مشہور ایکٹرز ہیں۔ پاکستان میں تو ماڈل ایکٹر فواد خان کے لکس کی لڑکیاں دیوانی ہیں۔ اب زندگی چینل پر فواد کو دیکھنے کے بعد بھارت کی لڑکیاں بھی ان کے لکس، ان کی اسمائل اور ان کی ایکٹنگ کی قائل ہوگئی ہیں۔

’زی زندگی‘ پر 23 جون کو شروع اور 18 جولائی کو ختم ہونے والے سیریل’ زندگی گلزار ہے‘ کی رائٹر عمیرہ احمد کو بھارت میں بھی ٹی وی سیریل لکھنے کی آفر ہوئی ہے۔

سیریل کے حوالے سے ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ جس ملک میں سیریل سال در سال چلتے ہوں وہاں صرف 26 دنوں میں ہی ’زندگی گلزار ہے‘ لوگوں کے دلوں میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوگیا۔

XS
SM
MD
LG