رسائی کے لنکس

،بھارتی کنٹرول کے کشمیر میں جاری تحریک میں پاکستان ملوث نہیں،


جنوبی ایشیائی امور کے لیے امریکہ کے سابق نائب وزیرِ خارجہ ایمبسڈرہاورڈ شیفر

جنوبی ایشیائی امور کے لیے امریکہ کے سابق نائب وزیرِ خارجہ ایمبسڈرہاورڈ شیفر

جنوبی ایشیائی امور کے لیے امریکہ کے سابق نائب وزیرِ خارجہ ایمبسڈرہاورڈ شیفر نے کہا ہے کہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں جاری کشیدگی میں پاکستانی خفیہ اداروں کے ملوث ہونے کے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں۔ بدھ کو وزیر اعلی عمر عبدالله نے کہا کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اسے صرف معاشی پیکج دے کر حل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی بگڑتی صورتِ حال کو معمول پر لانے کے لیے جلد سیاسی ڈائلاگ شروع کیا جانا چاہیے۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں حالات اس وقت بگڑے جب بھارتی فورسز کی فائرنگ سے 11 جون کو ایک کم عمر کشمیری لڑکے کی ہلاکت کے اگلے ہی روز ایک اور احتجاجی مظاہرے میں دو اور نوجوان بھارتی پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے تھے۔ گزشتہ تین مہینوں میں تقریباً ایک سو سے زیادہ کشمیری ان مظاہروں میں ہلاک ہو چکے ہیں ۔ واشنگٹن میں موجود مبصرین کا کہناہے کہ کشمیریوں کی یہ تحریک سراسر مقامی ہے۔

ربیکا بیرلی کا تعلق وائس آف امریکہ سے ہے۔ وہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر سے ٹائم ڈاٹ کام کےلیے رپورٹنگ کرتی رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ حالیہ مظاہروں میں کشمیریوں کی وہ نسل آگے آگے ہے جس نے وادی میں بھارتی فوج کی گولیوں سے اپنے ہم عمر نوجوانوں یا دوستوں کو مرتے دیکھا ہے ۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر غور کیا جائے تو شاید ایسے واقعات ہی دہشت گردی کی وجہ بنتے ہیں۔ ان کے مطابق آج ہم جس نوجوان نسل کو دیکھ رہے ہیں وہ چار ماہ ، جب جون میں یہ تحریک شروع ہوئی تھی، زیادہ متحرک ہے۔ اور اس صورتِ حال کو بہتر کرنے کے لیے بہت کچھ کرنا ہو گا۔ وہ کہتی ہیں کہ میں نے ان نوجوانوں سے بات کی جن کے ایک سات سالہ دوست کو اس سال کے وسط میں ان کے سامنے گولی مار کر ہلاک کردیا گیاتھا۔ یہ نوجوان اس واقعہ کو نہیں بھولیں گے۔ وہ بھارت کے خلاف بہت متحرک ہیں اور یہ ایک حقیقت ہے۔

واشنگٹن کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر دہلی کی حکومت نے موجودہ تحریک کو طاقت سے دبانے کی کوشش کی تو وہ نوجوان جن کی ہاتھوں میں آج پتھر ہیں آنے والے وقت میں بندوقیں بھی اٹھا سکتے ہیں۔

ایمبسیڈر ہارورڈ شیفر سابق امریکی ڈپلومیٹ ہیں اور کشمیر کے مسئلے کو حل کرانے کے لیے امریکہ کے کردار پر ایک کتابThe Limits of Influence: America’s Role in Kashmir کے مصنف ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ صدر اوباما اگلے مہینے بھارت کے دورے کے دوران اس مسئلے پر ایک دوست کی حیثیت سے بات کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ یہ جانتی ہے کہ اگر اس نے کشمیر کے مسئلے پر بھارت پر دباؤ ڈالا تو وہ ناراض ہو سکتاہے۔

ان کے مطابق کشمیر کے ان کشیدہ ترین حالات میں بھی صدر اوباما کے مشیر انہیں یہی کہیں گے کہ وہ بھارت اور پاکستان سے یہ کہیں کہ وہ بیک چینل ڈپلومیسی ڈائلاگ بحال کریں جو صدر مشرف کے سیاسی مسائل اور ممبئی حملوں کے باعث معطل ہوگیا تھا۔

XS
SM
MD
LG