رسائی کے لنکس

مجرم کی سزا میں توسیع کا کوئی اختیار نہیں: بھارتی سپریم کورٹ


دہلی میں 2012 میں ہونے والی اجتماعی زیادتی کے کم عمر مجرم کی رہائی کے خلاف طلبا تنظیم کا احتجاج۔

دہلی میں 2012 میں ہونے والی اجتماعی زیادتی کے کم عمر مجرم کی رہائی کے خلاف طلبا تنظیم کا احتجاج۔

2012 میں نئی دہلی میں ایک طالبہ سے بس پر اجتماعی زیادتی کے کم عمر مجرم کی رہائی کے خلاف دہلی کمیشن فار ویمن نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں مجرم کی سزا میں توسیع کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

بھارت کی عدالت عظمیٰ نے پیر کو کہا ہے کہ اس کے پاس 2012 میں نئی دہلی میں ایک طالبہ سے بس پر اجتماعی زیادتی کے کم عمر مجرم کی سزا میں توسیع کا کوئی اختیار نہیں۔

ایک دن قبل ہی مجرم کو رہا کیا گیا۔ جرم کے وقت اس کی عمر 17 برس تھی اور اسے جووینائل جسٹس بورڈ نے تین سال قید کی سزا سنائی تھی۔

اس حملے کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے گئے تھے اور عالمی توجہ بھارتی عورتوں کی حالت زار کی طرف مبذول ہوئی تھی جہاں پولیس کا کہنا ہے کہ ہر 20 منٹ میں زیادتی کے ایک واقعے کی شکایت کی جاتی ہے۔

اس واقعے کے بعد اٹھارہ سال سے کم عمر کے مجرم کی سزا کے متعلق ملک میں بحث چھڑ گئی تھی کہ ملک کے قوانین نابالغ مجرموں کے حق میں بہت نرم ہیں۔

دہلی کمیشن فار ویمن نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں مجرم کی سزا میں توسیع کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

’’ججوں نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ہر کام قانون کے مطابق ہوا۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ انہیں کسی بھی نئے اقدام کے لیے ’’قانون کی طرف سے اجازت کی ضرورت ہے۔‘‘

2012 میں اس مجرم اور اس کے پانچ ساتھیوں نے دہلی میں فزیوتھراپی کی 23 سالہ طالبہ اور اس کے دوست کو دھوکے سے بس میں سوار کیا جہاں انہوں نے اس کے ساتھ متعدد بار زیادتی کی اور دونوں کو لوہے کی ایک سلاخ سے مارا اور بعد میں انہیں بس سے نیچے پھینک دیا۔

متاثرہ خاتون چند ہفتوں بعد اپنے زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسی۔ اس کیس میں چار بالغ مجرموں کو سزائے موت سنائی گئی جبکہ پانچویں نے جیل میں خود کشی کر لی تھی۔ مجرموں کی سزائے موت پر ابھی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔

دہلی کمیشن فار ویمن کی سربراہ سواتی مالیوال نے عدالت کے باہر نامہ نگاروں کو بتایا کہ حکومت نے قانون میں تبدیلی نہ کر کے بھارتی عوام کو مایوس کیا ہے جس کے تحت 18 سال سے کم عمر کے افراد کو زیادہ سے زیادہ صرف تین سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔

’’آخر میں عدالت نے کہا کہ ہم آپ کے تحفظات سے ہمدردی رکھتے ہیں مگر قانون کمزور ہے۔ ہم کچھ نہیں کر سکتے۔‘‘

XS
SM
MD
LG