رسائی کے لنکس

48 بھارتی ماہی گیر رہا

  • مقصود مہدی

رہا کیے گئے بھارتی ماہی گیر

رہا کیے گئے بھارتی ماہی گیر

پاکستان اور بھارت کے ماہی گیر اکثر مچھلیاں پکڑتے ہوئے غلطی سے دوسرے ملک کی سمندری حدود میں داخل ہو جاتے ہیں جس پر انھیں گرفتار کر لیے جاتا ہے۔

پاکستان نے کراچی کی جیل میں قید 48 بھارتی ماہی گیروں کو پیر کے صبح رہا کر دیا۔ یہ مچھیرے کراچی سے لاہور روانہ ہوئے جنہیں واہگہ بارڈر کے راستے بھارتی حکام کے حوالے کیا جائے گا۔

جذبہ خیر سگالی کے تحت ان ماہی گیروں کو ایک ایسے وقت رہا کیا گیا ہے جب کہ بھارت کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا اتوار کو اپنا تین روزہ دورہ پاکستان ختم کر کے وطن واپس گئے ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے ماہی گیر اکثر مچھلیاں پکڑتے ہوئے غلطی سے دوسرے ملک کی سمندری حدود میں داخل ہو جاتے ہیں جس پر انھیں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔

سمندری حدود کی ان خلاف ورزیوں کی عمومی وجہ ماہی گیروں کی کشتیوں میں سمت اور حدود بتانے والے جدید آلات کا نہ ہونا بتایا جاتا ہے۔

رہا ہونے والے قیدیوں میں شامل فیروز کا تعلق بھارتی علاقے جونا گڑھ سے ہے۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انھوں نے اپنی رہائی پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ دعا گو ہیں کہ بھارت میں قید پاکستانی ماہی گیروں کو بھی جلد رہائی مل جائے۔

’’ہمیں بہت خوشی ہے کہ ہم گھر جانے والے ہیں اپنی ماں، بہنوں سے ملنے والا ہوں… میں اپنے بھارتی ماہی گیروں کو پیغام دینا چاہوں گا کہ جو غلطی ہم نے کی ہے وہ نہ کریں۔‘‘

منصور آدم بھی رہائی پانے والے بھارتی ماہی گیروں میں شامل ہیں ان کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں میں جو ماہی گیر ابھی تک قید ہیں انھیں بھی جلد رہا کیا جانا چاہیے۔

پاکستان اور بھارت غلطی سے ایک دوسرے کی سمندری حدود میں داخل ہونے پر گرفتار کیے گئے ماہی گیروں کی جلد از جلد رہائی ممکن بنانے کی کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کرچکے ہیں۔
XS
SM
MD
LG