رسائی کے لنکس

بھارتی حکام کی طرف سے یہ مشورہ بھی دیا گیا کہ ان تہہ خانوں میں وہ پناہ کے علاوہ خوراک، پانی اور روشنی کے لیے ’بیٹری لائٹس‘ اور موم بتیاں ذخیرہ کر سکیں۔

شہری دفاع کے بھارتی حکام نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے رہائشیوں کو ایسے ’بم پروف‘ تہہ خانے تیار کرنے کا مشورہ دیا ہے جہاں گھر کے افراد کم ازکم 15 روز تک مقیم رہ سکیں۔

بھارتی حکام کی طرف سے یہ مشورہ بھی دیا گیا کہ ان تہہ خانوں میں وہ پناہ کے علاوہ خوراک، پانی اور روشنی کے لیے ’بیٹری لائٹس‘ اور موم بتیاں ذخیرہ کر سکیں۔

یہ مشورہ کشمیر کو منقسم کرنے والی حد بندی لائن پر حالیہ ہفتوں میں ہونے والی فائرنگ اور اس سے پیدا ہونے والی پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں جاری کیا گیا ہے۔

جوہری جنگ کی صورت میں شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ ’’ ایٹمی دھماکے کی روشنی نظر آنے کے پانچ سیکنڈ تک دھماکے کی لہر نہیں آتی تو آپ متاثرہ جگہ سے بہت دور ہیں‘‘۔

بھارتی کشمیر میں بعض حلقے اس مشورے کو خوف و ہراس پھیلانے اور پاکستان کو اشتعال دلانے سے تعبیر کرتے ہوئے اس پر تنقید کر رہے ہیں۔

دونوں ہمسایہ ایٹمی قوتوں کے درمیان کشمیر کا علاقہ روز اول سے متنازع ہے اور سرحد پر کشیدگی کی صورت میں جوہری جنگ کا خدشہ زور پکڑ جاتا ہے۔

لائن آف کنٹرول پر حالیہ کشیدگی کے بعد پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب خاص طور پر چکوٹھی سیکٹر میں مقامی آبادی نے فائرنگ اور گولہ باری سے بچنے کے لیے اپنے گھروں کے قریب پہلے سے بنے مورچوں کی صفائی کا کام شروع کر دیا تھا تاکہ وہ فائرنگ کے تبادلے میں شدت کی صورت میں پناہ لے سکیں۔

لیکن حالیہ دنوں میں لائن آف کنٹرول پر فائربندی کے بعد صورت حال میں بہتری آئی ہے اور پیر کو دو ہفتوں سے زائد وقت تک معطل رہنے کے بعد راولاکوٹ اور پونچھ کے درمیان بس سروس بحال ہوئی تھی جس کے ذریعے منقسم کشمیر کے خاندانوں نے سرحد کے آر پار سفر کیا۔
XS
SM
MD
LG