رسائی کے لنکس

بھارتی کشمیر میں زرعی خود کفالت کی کوششیں

  • ریبکا بیرلی
  • عمران صدیقی

بھارتی کشمیر میں زرعی خود کفالت کی کوششیں

بھارتی کشمیر میں زرعی خود کفالت کی کوششیں

دنیا کے بلند ترین پہاڑی سلسلے ہمالیہ کے دامن میں واقع خطہِ کشمیر کئی عشروں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک انتہائی متنازع علاقے کی حیثیت رکھتا ہے۔ کئی برسوں سے تشدد کے واقعات وہاں کی روز مرہ زندگی کا معمول بن چکے ہیں۔ دوسری جانب بہت سے کشمیری پھلوں کے باغات اورزرخیر مٹی سے مالامال اس سرزمین کو زرعی لحاظ سے خودکفیل بنانے کی کوششیں کررہے ہیں

بھارتی زیر انتظام کشمیر زیادہ تر ایک زرعی خطہ ہے جہاں بھارتی مارکیٹ کے لیے پھل ، اناج، اور سبزیاں پیدا ہوتی ہیں۔ بھارت میں سیبوں کی کل پیدوار کا 60 فی صد سے زیادہ کشمیر سے ہی حاصل ہوتاہے۔

خرم میر کہتے ہیں کہ سیبوں کی کاشت آمدنی کا ایک اچھا ذریعہ ہے ۔ انہوں نے پھلوں کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے علاقے کا ایک پہلا کنٹرولڈ سسٹم تعمیر کیا تاکہ کسانوں کو اپنے پھلوں کی بہتر قیمتیں مل سکیں ۔

ایک تاجر خرم میر کا کہنا ہے کہ کشمیر یوں کی ایک خاصی بڑی تعداد براہ راست یا بالواسطہ طور پر زراعت کے شعبے سے وابستہ ہے ، میرا خیال ہے کہ اس سیکٹر کو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ اگر ہم اس شعبے کو درست سمت میں چلاسکیں تو اس سے کشمیری اقتصادی طور پر زیادہ سے زیادہ مضبوط ہوں گے ۔

خرم میر اس طریقے کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں جس سے جواد احمد اور سیبوں کے دوسرے کاشت کار اپنے پھلوں کی پیداوار حاصل کرتے ہیں ۔ اس کی بجائے وہ لکڑی کے یہ باکس استعمال کر رہے ہیں، اب کسان کریٹس استعمال کر رہے ہیں اور وہ اپنے سیب درختوں سے اتارنے کے 24 گھنٹوں کے اندر میر کے احاطے میں لے جاتے ہیں ۔ میر کہتے ہیں کہ اس سے کسانوں کو بہت فائدہ ہورہا ہے ۔

ایک کسان جواد احمد کہتے ہیں کہ میں دوسرے کاشت کاروں کو اپنے سیبوں کا معیار بہتر بنانے کے لیے مشورے دیتا ہوں اور انہیں مناسب طریقے بتاتا ہوں۔

کشمیر کی سیاسی جدو جہد ، اور اس کے ساتھ منسلک تشدد علاقے کے قدرتی وسائل پر اثر انداز ہوتےہیں۔ گزشتہ کئی ماہ کے دوران ایک سو سے زیادہ کشمیری سیکیورٹی فورسز کےساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہوچکے ہیں۔پوری وادی میں اسکول اور کاروباری مراکز بند اور سخت کرفیو نافذ رہا ۔ اس دوران جن بہت سے کاشتکاروں نے اپنے سیب ٹرکوں کے ذریعے خرم میر کے احاطے تک پہنچانے کی کوشش کی ، ان کا کہنا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے انہیں کرفیو کی خلاف ورزی کرنے پر مارا پیٹا اور مظاہرین نے ان کے ٹرکوں کو نقصان پہنچایا ۔ میر کہتے ہیں کہ کشمیر کے مستقبل کے لیے ان کی کمپنی کی کامیابی اہمیت رکھتی ہے۔

خرم میر کا کہنا ہے کہ اس پراجیکٹ کا تعلق مجھ سے نہیں ہے ۔ اس کا تعلق پورے خطے سے ہے۔ اس کا تعلق کشمیر کی وادی سے ہے ۔ ہماری کامیابی اہمیت رکھتی ہے ۔ اگر ہم کامیاب ہوں گے تو دس اور کاروباری افراد بھی یہاں آکر اس طرح کا مرکز تعمیر کریں گے ۔

فردوس احمد ایک اور کاروباری شخصیت ہیں جو کشمیر کی زراعت کو ترقی دینے اور بین الاقوامی امدادی ادارے مرسی کراپس انٹرنیشنل کی مدد کررہے ہیں۔ وہ کسانوں کے ساتھ مل کر آلو کا ایک ایسا بیج کاشت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو یہاں آسانی سے کاشت ہو سکے تاکہ کشمیریوں کو آلو کی درآمد کم کرنی پڑے ۔

وہ کہتے ہیں کہ ہم اپنی کل مانگ کا تقریباًٍٍ 83 فیصد آلو بھارتی ریاستوں سے در آمد کرتے ہیں ۔ اس پر لگ بھگ 19 ملین امریکی ڈالر خرچ ہوتے ہیں ۔ اور اس کے علاوہ ہم کم و بیش چالیس لاکھ ڈالر کی لاگت کے پراسس کیے ہوئے آلو استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے یہ ایک بڑی مارکیٹ ہے جسے ہم اپنے ہاتھ میں لے سکتے ہیں۔

فردوس کو امید ہے کہ یہ صنعت ان کشمیری نوجوانوں کو اپنی جانب مائل کرے گی جو مستقبل میں زراعت کی صنعت سے وابستہ ہونا چاہتے ہیں ۔ وہ اور خرم میر دونوں کشمیر کےمستقبل کو فوجیوں اور سیاسی تشدد سے زیادہ سیبوں اور آلوؤں کی کاشت اور زراعت سے وابستہ دیکھنا چاہتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG