رسائی کے لنکس

بھارتی کشمیرمیں پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں، ایک بچہ ہلاک

  • یوسف جمیل

بارہ مولا میں ہفتے کے روز مسلمان مظاہرین اور پولیس کے درمیان ایک مرتبہ پھرجھڑپیں شروع ہوگئیں۔ اسی دوران ایک ہی ٹرک میں سوار اسپیشل پولیس گروپ کے سپاہیوں نے شہر کے آزاد گنج محلے میں جمع ہونے والے کچھ نوعمر لڑکوں کا تعاقب شروع کیا جس کے نتیجے میں ساتویں جماعت کا ایک طالب علم برہان رفیق دریائے جہلم میں گرگیا۔ اس کی نعش کو دریا سے نکالنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

مقامی لوگوں نے الزام لگایا ہے کہ سپاہیوں نے نوعمر لڑکے کوپہلے مارا پیٹا اور پھر اسے دریامیں پھینک دیا۔ لیکن عہدے داروں نے اس الزام کی سختی کے ساتھ تردید کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں پرتشدد مظاہروں اور پولیس پر سنگ باری کے دوران انہیں لڑکے کے دریائے جہلم میں ڈوب جانے کی خبر ملی تھی۔ یہ حادثہ کیسے پیش آیا ؟ اس کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

اس واقعہ کے بعد بارہ مولا میں بڑے پیمانے پر ا حتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے جس میں مشتعل لوگوں نے پولیس اور نیم فوجی دستوں پر پتھر اور پٹرول بم پھینکے۔ جس کے نتیجے میں عہدے داروں کے مطابق 25 اہل کار زخمی ہوگئے جن میں ایک عہدے دار بھی شامل ہے۔

حالات پر قابو پانے کے لیے بارہ مولا اور سری نگر کے 12 تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں کرفیو نافذ کردیا گیا اور سڑکوں پر خاردار تاریں بچھا کر حساس علاقوں کی ناکہ بندی کردی گئی۔

تاہم عہدے داروں کا اصرار ہے کہ کرفیو نافذ نہیں کیا گیا ہےبلکہ دفعہ 144 پر سختی سے عمل درآمد کروایا جارہاہے۔ سری نگر کی صورت حال کچھ اس طرح کی ہےکہ لوگوں کو مکانوں کی کھڑکیوں سے بھی باہر جھانکنے کی اجازت نہیں دی جارہی۔

شہر کے ایک علاقے میں جب سات برس کی ایک بچی سڑک کے کنارے نصب نل سے پینے کا پانی لینے کے لیے نکلی تو پولیس والوں نے اسے ڈرا دھمکا کر واپس لوٹنے پر مجبور کردیا۔

دریں اثنا استصواب رائے شماری کا مطالبہ کرنے والی جماعتوں کے اتحاد حریت کانفرنس کی اپیل پر وادی میں عام ہڑتال کی جارہی ہے۔

XS
SM
MD
LG