رسائی کے لنکس

بھارتی کشمیر میں تازہ تشدد، پانچ مسلمان عسکریت پسنداورچاربھارتی فوجی ہلاک

  • یوسف جمیل

بھارتی کشمیر میں تازہ تشدد، پانچ مسلمان عسکریت پسنداورچاربھارتی فوجی ہلاک

بھارتی کشمیر میں تازہ تشدد، پانچ مسلمان عسکریت پسنداورچاربھارتی فوجی ہلاک

مسلمان عسکریت پسندوں اور بھارتی حفاظتی دستوں کے درمیان تازہ جھڑپیں بدھ کو سرحدی ضلع راجوڑی میں پیش آئیں۔

ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ پلانہ، کنتھول، لامبی باری اور باغلا نامی علاقوں میں باضابطہ فوج، نیم فوجی دستوں اور مقامی پولیس کے عسکریت مخالف سپیشل آپریشنز گروپ کی طرف سے شروع کی گئی مشترکہ کارروائیوں کے دوران محصور جنگجوؤں نے اُن پر دستی بموں اور خودکار ہتھیاروں سے دھاوا بول دیا جِس میں چار سپاہی ہلاک ہوئے۔

حفاظتی دستوں کی جوابی کارروائیوں میں پانچ عسکریت پسند بھی مارے گئے، لیکن جموں میں بھارتی فوج کے ایک ترجمان نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ تاحال صرف چار عسکریت پسندوں کی لاشیں ملی ہیں اور اُن کےپانچویں ساتھی کے ہلاک ہونے کے بارے میں ابہام موجود ہے۔

ترجمان کے مطابق جھڑپوں کے دوران زخمی ہونے والے ایک پولیس افسر اور دو سپاہیوں کا اُدھمپور کے فوجی ہسپتال میں علاج ہو رہا ہے۔

عہدے داروں کا اصرار ہے کہ ہلاک ہونے والے عسکریت پسند اور اُن کے ساتھی جِن کو زندہ یا مردہ پکڑنے کے لیے کوششیں ہنوز جاری ہیں، حال ہی میں سرحد عبور کرکے بھارتی کشمیر میں داخل ہوئے تھے اور یہ کہ اُن سب کا تعلق کالعدم لشکرِ طیبہ تنظیم سے ہے۔

بھارت نے پچھلے ہفتے الزام دہرایا تھا کہ عسکریت پسندوں کو کنٹرول لائن پار کرانے میں پاکستانی فوج کی مدد ملتی ہے، لیکن اسلام آباد نے اِس بات کی سختی سے تردید کی تھی۔ بہر حال، بھارتی کشمیر کے سرحدی علاقوں میں مبینہ دراندازی اور حفاظتی دستوں کے درمیان گذشتہ ایک ہفتے میں پیش آنے والی جھڑپوں کے دوران تقریباً دو درجن افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

بھارتی عہدے داروں کے دعوؤں کے مطابق مرنے والوں کی اکثریت لشکرِ طیبہ اور حزب المجاہدین سے وابستہ عسکریت پسندوں کی تھی۔

XS
SM
MD
LG