رسائی کے لنکس

بھارتی کشمیرمیں پرتشدد مظاہرےجاری، مزید4 افراد ہلاک

  • یوسف جمیل

بھارتی کشمیر میں گزشتہ کئی ہفتوں سےجاری پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ منگل کے روزبھی جاری رہا، جبکہ پولیس اور نیم فوجی دستوں کی فائرنگ سے مزید چار کشمیری ہلاک اور ایک درجن سے زائد زخمی ہوگئے۔

فائرنگ کے تازہ واقعات سری نگر کے کمر واری اور نرور کے علاقوں اور وادی کے جنوبی قصبے کُلگام میں پیش آئے جہاں پولیس نے کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والے ہزاروں مظاہرین پر گولی چلادی ۔ فائرنگ میں دو افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔

کپواڑا اور بانڈی پور کے اضلاع میں بھی حفاظتی دستوں نے پر تشدد مظاہرین کو منتشر کرنے کی غرض سے اشک آور گیس استعمال کی اور براہِ راست فائرنگ کی، جس میں ایک فرد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔ نیزکھِو کے علاقے میں گزشتہ ہفتے پولیس کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا ایک نوجوان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسپتال میں چل بسا۔

پولیس ذرائع کے مطابق منگل کو مظاہرین کے پتھراؤ کے باعث متعددسیکیورٹی اہل کار بھی زخمی ہوئے جب کہ مشتعل ہجوم نے مزید کئی سرکاری عمارتوں اور پولیس چوکیوں کے ساتھ ساتھ پولیس اہلکاروں کے گھروں اور دیگر نجی املاک کو بھی توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا اور نذرِ آتش کردیا ۔

مظاہرین کی جانب سے پولیس اور نیم فوجی دستوں پر سنگ باری کے واقعات وادی کے کئی دوسرے علاقوں میں بھی پیش آئے ۔

وادی کشمیر میں گذشتہ پانچ روز سے جاری مظاہروں پر پولیس کی فائرنگ سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 26ہوگئی ہے۔ وادی کے متعدد علاقوں میں گزشتہ کئی ہفتے سے کرفیو نافذ ہے تاہم شہریوں کی جانب سے کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سڑکوں پر دھرنے دینے اور جلوس نکالنے کا سلسلہ جاری ہے۔

مظاہروں کا نیا سلسلہ سری نگر کے علاقے بٹمالو میں ایک نو سالہ بچے کو حفاظتی دستوں کی جانب سے مبینہ طور پر بندوق کے بٹ مار کر اور منہ میں لوہے کی سلاخ ٹھونس کر ہلاک کرنے کے واقعے کے خلاف گزشتہ رات شروع ہوا۔ انتظامیہ نے مقامی لوگوں کے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہےکہ مقتول مظاہرین میں بھگ دڑ مچنے سے ہلاک ہوا ۔

دریں اثناء صوبائی وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی درخواست پر مرکزی حکومت نے مظاہرین پر قابو پانے کی غرض سے نیم فوجی دستوں کے مزید 1900اہلکار سری نگر روانہ کردیے ہیں۔ جب کہ فوج نے سری نگر جموں شاہراہ کے وسیع حصے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

XS
SM
MD
LG